پروگرام میں آنے کیلئے چینل نے ہمیں دعوت دی تھی مروہ کے والد نے ندا یاسر کا جھوٹ بے نقاب کردیا

  جمعہ‬‮ 18 ستمبر‬‮ 2020  |  22:44

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی ہوسٹ و معروف پاکستانی اداکارہ ندا یاسر کا جھوٹ بے نقاب ہو گیا ۔ مروہ کے والد نے حقیقت بتا دی ۔ تفصیلات کے مطابق ندایاسر کی جانب سے یہ دعوی بھی کیاگیاکہ مروہ کےوالدین نے ہمارے شو میں آنے کیلئے رابطہ کیا تھا جبکہ ملزم کی گرفتاری کا کریڈٹ اپنے حصے میں ڈال لیا اور کہا کہ ہمارے پروگرام کے بعد ملزم گرفتار ہوا ہے ۔مروہ کے والد نے ندا یاسر کے تمام دعوئوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کسی چینلز سے رابطہ نہیں کیا بلکہ


ہمیں فون آیا تھا اور ہمیں شو میں آنے کی دعوت دی گئی تھی ۔ جبکہ مروہ کے تایا نے بتایا کہ جس وقت مروہ کی میت ہمارے پاس آئی اس کے بعد ہمارے ساتھ میڈیا رابطہ ہوا ۔ واضح رہے کہ نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے معروف مارننگ شو کی میزبان ندایاسر اس وقت شدید تنقید کی زد میں ہیں کیونکہ انہوں نے مروہ کے اہلخانہ کو اپنے پروگرام میں مدعو کیا اور ان سے بے معنی سوالات کیے۔ تفصیلات کے مطابق ندا یاسر نے اپنے پروگرام میں بچی مروہ کے والدین کو بلایا اور ان سے اس واقعے کی تفصیلات بتانے کے لیے کہا جو یقینا ان والدین کے لیے بتانا بہت مشکل تھا۔ندا یاسر نے مروہ کے والد سے متعدد بار کئی بے معنی سوالات کیے۔جب کہ پروگرام میں موجود مروہ کی دادی اماں مسلسل روتی رہیں۔ندا یاسر بار بار مروہ سے متعلق سوالات پوچھتی رہیں،جس کا جواب دیتے ہوئے ان کے والد بھی آبدیدہ ہو گئے۔گفتگو کے دوران ان کی آنکھوں میں درد اور آنسو واضح دیکھے جا سکتے تھے۔مروہ کے اہلخانہ کے لیے اس واقعے پر بات کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے ندا یاسر کے انداز اور سوالات پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اپنے چینل کی ریٹنگ کے لیے ایسے لوگوں کو بلا لیا جن کی بیٹی سے برا سلوک ہوا،۔سوشل میڈیا صارفین نے ندا یاسر کو ہٹانے اور ان کے مارننگ شو کو بند کرنے کا مطالبہ کردیا اور اس سلسلے میں ایک مہم بھی شروع کردی ہے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

صرف تین ہزار روپے میں

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎