اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

منصف کی شکل میں کچھ لوگوں نے بغیر مانگے آمروں کو آئین میں ترمیم کا اختیار دیا، گوالمنڈی ہویاکوئی علاقہ وزیر اعظم ہتک انگیز بات کریں یہ مناسب نہیں، شہباز شریف کا انتہائی سخت جواب

datetime 18  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ منصف کی شکل میں کچھ لوگوں نے بغیر مانگے آمروں کو آئین میں ترمیم کا اختیار دیا، مختلف ادوار میں آمروں نے مرضی کی ترامیم سے عدلیہ کو کمزور کیا، عدلیہ کی آزادی کیلئے جو کام سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کو کرنا تھا وہ نہ ہوسکا،آج کے زمانے کے

جج ارشد ملک کا قصہ بھی آپ کے سامنے ہے،انصاف کے چہرے پر یہ بدنما داغ دھونا بھی چاہیں تو نہیں دھو سکتے،بلاول کے خاندان نے یقیناجمہوریت کیلئے جو قربانیاں دیں وہ انتہا کی تھیں، قوم بھی معترف ہے،ماضی کی فاش غلطیوں سے ہمیں سیکھنا ہوگا، گوالمنڈی ہویاکوئی علاقہ وزیر اعظم ہتک انگیز بات کریں یہ مناسب نہیں، وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر وہ بات کی جس کا کوئی تصورنہیں کرسکتا۔ جمعرات کو پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ منصف کی شکل میں کچھ لوگوں نے بغیر مانگے آمروں کو آئین میں ترمیم کا اختیار دیا، ماضی پر رونے دھونیکا کوئی فائدہ نہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ قوم معترف ہے کہ بھٹو خاندان نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دیں ، بلاول کے خاندان نے یقیناجمہوریت کیلئے جو قربانیاں دیں وہ انتہا کی تھیں۔انہوں نے کہا کہ اے پی سی کے انعقاد پر بارکونسل مبارک باد کی مستحق ہے،یہاں عدلیہ میں تقرریوں، احتساب اور شخصی آزادیوں کا اہم ترین ایجنڈا رکھا گیا۔شہبازشریف نے کہا کہ اس ملک میں انصاف کے متعلق نشیب و فراز آتے رہے، ان جج کا نام بھی یاد ہوگا جنہوں نے پہلی بار نظریہ ضرورت کو یاد کرایا، پھر آپ کو جسٹس کیانی جیسے جج بھی یاد ہوں گے، وہ جج بھی یاد ہوں گے جنہوں نے کہا بھٹو کا فیصلہ دباؤ میں کیا تھا اور آج کے زمانے کے جج ارشد ملک کا قصہ بھی آپ کے سامنے ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ماضی کی فاش غلطیوں سے ہمیں سیکھنا ہوگا، ماضی پر رونے دھونے سے کوئی فائدہ نہیں، غلطیوں کا اعتراف کرنا چاہیے، کسی بھی قوم سے تعلق ہو آئین نے سب کو جوڑ رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ دو ڈھائی سال میں سیاسی جماعتوں کیخلاف خاص مہم چلائی گئی، انصاف کے چہرے پر یہ بدنما داغ دھونا بھی چاہیں تو نہیں دھو سکتے،جسٹس کیانی نے بھی ایک مرتبہ

کہا کہ نظریہ ضرورت ان کی غلطی تھی، ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا آئین کی توقیر کرنا ہو گی۔شہبازشریف نے اعتراف کیا کہ ہم سے بھی حماقتیں ہوئی ہیں تاہم کب تک تماشا دیکھتے رہیں گے، کالے کوٹ والوں نے ملک کے لیے بہت قربانیاں دیں، قربانیوں کا نتیجہ کیا نکلا اس پر بحث ہوسکتی ہے۔صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ نوازشریف عدلیہ تحریک میں اللہ کے سہارے ماڈل ٹاؤن

سے نکلے، گوالمنڈی میں بڑے نیک لوگ رہتے ہیں، انھوں نے خون کے دریا عبور کیے۔انہوں نے کہا کہ منصف ایسا چْنا جائے جوبلا امیتاز و تفریق انصاف کرے،ہم احتساب نہیں انتقام کی چکی سے گزر رہے ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے معاملے کو سیاسی نہیں بنانا، نیب کے حوالے سے جو حکومت نے پروپیگنڈا کیا اس تقریر کا ذکر نہیں کرنا چاہتا۔شہبازشریف نے کہا کہ گوالمنڈی میں بہت

عظیم لوگ رہتے ہیں اسے حقارت کی نظر سے دیکھا گیا، ایسا وزیراعظم ہے جسے احساس نہیں کہ ملک کا ہر علاقہ مقدس ہے، احتساب چہرہ نہیں کیس دیکھے تب قائد کا پاکستان بنے گا۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر وہ بات کی جس کا کوئی تصورنہیں کرسکتا، حکومت وقت کا لہجہ گزشتہ روز آپ نے سن لیا ہے، کابینہ میں آدھے سے زیادہ وہ لوگ ہیں جن کا

احتساب ہو تو بچ نہیں سکیں گے، احتساب پک اینڈ چوز کے تحت نہیں سب کا بلا امتیاز ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل حل کرنے کیلئے زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، پیپلزپارٹی کے دور میں پنجاب نے باقی صوبوں کی مالی مشکلات اپنے سر لیں، این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا 100 فیصد حصہ بڑھایا گیا، پنجاب وسائل اور آبادی کے لحاظ سے بڑا بھائی

ہو سکتا ہے لیکن خداکی قسم پنجاب جب تک برابر کا بھائی نہیں بنے گا قائد کا پاکستان نہیں بن سکتا، یہ نہیں ہو سکتا کہ پنجاب اکیلا آگے بڑھے۔شہبازشریف نے کہا کہ گوالمنڈی ہویاکوئی علاقہ وزیر اعظم ہتک انگیز بات کریں یہ مناسب نہیں، فرانس اور برطانیہ میں جنگوں میں لاکھوں لوگ مرے لیکن آج ان میں مشترکہ منڈیاں ہیں، کیا ہم چاروں صوبوں کو اکٹھا نہیں کر سکتے؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…