اغوا کرنے کے بعد باری باری مروہ کی آبروریزی کی جس سے بچی کی موت ہوگئی، کیس میں گرفتار ملزمان کا اعترافی بیان

  منگل‬‮ 15 ستمبر‬‮ 2020  |  17:08

کراچی (این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے منتظم جج نے مروہ کیس میں 3 ملزمان کو 26 ستمبر تک کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔5 سالہ بچی مروہ سے کیس میں گرفتار 2 ملزمان عبد اللہ اور فیض کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے منتظم جج کے سامنے پیش کیا گیا۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نواز کے خلاف کوئی شواہد موصول نہیں ہوئے، ملزم نواز کو بے گناہ قرار دیا گیا ہے اور رہا کیا جا رہا ہے۔پراسیکیوٹر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جب تک کیس کی تحقیقات


مکمل نہیں ہو جاتیں، چالان جمع نہیں ہو جاتا، ملزم نواز کو رہا نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے تفتیشی افسر کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے تیسرے ملزم نواز کو فوری عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے تینوں ملزمان کو 26 ستمبر تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔دریں اثنا مروہ کیس میں دو ملزمان نے اعتراف جرم کر لیا ، فیض عرف فیضو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وقوعہ کے روز میں اور میرے ساتھی عبداللہ نے بچی کو اغوا کیا۔اغوا کے بعد اپنے گھر لا کر باری باری مروہ کی آبروریزی کی جس کی وجہ سے مروہ کی موت ہوئی۔مروہ کی لاش کپڑے میں لپیٹ کر کچرا کنڈی میں پھینک دی تھی۔مروہ کی لاش پر کچرا پھینک دیا تھا تاکہ وہ نظر نہ آ سکے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎