ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان نے عاصم سلیم باجوہ کا استعفیٰ قبول کیوں نہیں کیا؟ اندر کی کہانی جانئے رئوف کلاسرا اور عامر متین سے

datetime 5  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی رئوف کلاسرا کے مطابق عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں کی تفصیلات تین ملکوں سے جمع کی گئی ہیں، جن میں پاکستان، دبئی اور امریکہ شامل ہے اور اس کے پیچھے پوری ٹیم ہے لیکن ان میں کون کون سے نام شامل ہیں نہیں بتائے گئے۔

ہم لوگ خود عاصم سلیم باجوہ کے جواب کا انتظار کر رہے تھے کہ ان کی تردید یا تصدیق کے بعد ہی اس پر کوئی بات کی جائیگی۔ان کے ساتھ موجود مشہور صحافی عامر متین کا کہنا تھا کہ میرے خیال سے عاصم سلیم باجوہ کا وزیراعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دینا بہت اچھا اقدام تھا، عاصم سلیم باجوہ کو اپنے اثاثوں کی تفصیلات سامنے لانے کی ضرورت وہاں سے پیش آئی جہاں سے وہ معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کے عہدے پر فائز ہوئے اگر وہ اس عہدے پر فائز نہ ہوتے تو ان کو اپنے اثاثوں کی تفصیلات سامنے لانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ جس طرح سے وزیراعظم کے معاون خصوصی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کو اپنے اثاثوں کی تفصیلات دینا پڑیں اسی طرح سی پیک کا جو بھی چیئرمین آتا ہے اس کے لیے بھی ایسا ہی قانون ہونا چاہئے کہ وہ چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے اثاثوں کی تفصیلات سب کے سامنے رکھے تاکہ ہمیں بھی معلوم ہو سکے کہ اتنے بڑے پروجیکٹ کو دیکھنے کے لئے لگنے والا چیئرمین کتنے اثاثوں کا مالک ہے۔

ہمارے ہاں پچھلے بیس پچیس سال سے ایک کلچر بنا ہوا ہے کہ سول ملٹری اور بیوروکریسی میں جو بھی لوگ آتے ہیں وہ عہدے سے ریٹائر ہونے سے قبل پندرہ بیس کروڑ سے لے کر 1، 2 ارب روپے کے قانونی اثاثے اور بینک بیلنس لے کر جاتے ہیں کیونکہ ان لوگوں نے اپنی

تنخواہوں کے علاوہ ملنے والی مراعات میں بھی بے پناہ اضافہ کر لیا ہوا ہے، عاصم سلیم باجوہ کی طرح اگر باقی بھی سول ملٹری کے افسران اور بیورو کریٹس سے اثاثوں کی تفصیلات مانگ لی جائیں تو ان سے اربوں روپے نکلیں گے جس کا ایک عام آدمی گمان بھی نہیں کر سکتا۔

عامر متین کا اپنے تجزیے میں مزید کہنا تھا کہ عاصم سلیم باجوہ کو اب اخلاقی طور پر سی پیک کی چیئرمین شپ اور معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے اس وقت یہی ان کے لئے اچھا ہوگا کیوں کہ یہ بات اب یہیں ختم نہیں ہونے والی یہ اور مزید آگے بڑھے گی

اور اس دائرے میں اور بھی لوگ پھنسیں گے جو ابھی تک بچتے آئے ہیں، اب عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی اس حوالے سے ایکشن لینا چاہیے کہ سول ملٹری کے افسران اور بیوروکریٹس نے آخر اتنی زیادہ مراعات اپنے لیے بڑھا رکھی ہیں؟رئوف کلاسرا کا اس موقع پر

کہنا تھا کہ میرے ذرائع نے مجھے بتایا ہے کہ جب عاصم سلیم باجوہ اپنے اثاثے ڈکلیئر کرنے کے لیے فارم بھر رہے تھے تب یہ بات ان کے ذہن میں بھی نہیں ہوگی کہ جو جواب میں فارم میں لکھ رہا ہوں اسے کل کو پبلک کر دیا جائے گا، جب حکومت نے عاصم باجوہ کے اثاثوں کی

تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر ڈالیں تو بہت سے لوگوں کے لیے یہ ایک بم شیل تھا کہ عاصم باجوہ ارب پتی ہیں اور ان کے بیرون ملک کاروبار اور جائیدادیں ہیں جس کے بارے میں ایک پاکستانی کو کچھ بھی معلوم نہیں تھا، کیونکہ آرمی میں اس طرح کی چیزوں کو کلاسیفائیڈ کرکے سیکرٹ رکھا جاتا ہے۔

رئوف کلاسرا کا اپنے تجزیے میں مزید کہنا تھا کہ جب عاصم باجوہ کی جانب سے اپنے اثاثوں سے متعلق پریس ریلیز جاری کر دی گئی تھی تو انہیں اپنے اثاثوں کی تفصیلات سامنے لانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور نا ہی انہوں نے اپنے لئے صحیح کیا ہے۔

ڈاکٹر سعید باجوہ جو امریکہ میں ایک معروف و مشہور نیورو سرجن ہیں اور دوسرے بھائی ان کے بینک میں ہیں، باجوہ فیملی شروع سے پیسوں کے حوالے سے بہت مضبوط رہی ہے، اس لیے ان کے اثاثوں کی جانب انگلیاں اٹھانا مناسب نہیں ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…