جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو سخت مزاحمت کا سامنا، دونوں بڑی جماعتوں کے کردار پر سوال اٹھا دیے گئے

datetime 4  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن) اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا،چھوٹی جماعتوں نے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے کردار پر شدید اعتراضات کی۔ جمعرات کے روزجے یو آئی کے رہنما اور رہبر کمیٹی کے کنوینئراکرم درانی کی زیرصدارت اپوزیشن جماعتوں کیاجلاس کے دوران مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے رہنمائوں کو اپوزیشن کی

دیگر جماعتوں کی سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا ذرائع کے مطابق چھوٹی جماعتوں کے نمائندے پی پی اور ن لیگ کے کردار پر سخت برہم رہے اس موقع پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ پی پی اور ن لیگ نے پہلے بھی اپوزیشن کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ ہو یا قانون سازی، دونوں جماعتوں نے حکومت کو سپورٹ کیا ہے اور اب کیا گارنٹی ہے کہ دونوں جماعتیں اس بار اپوزیشن کو دھوکہ نہیں دینگی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے موقف اختیار کیا کہ کیا مولانا نے آزادی مارچ ہم سے پوچھ کر کیا تھا انہوں نے اجلاس کو یقین دہانی کرائی کہ اپوزیشن جو مشترکہ فیصلہ کرے گی اسکے ساتھ ہیں، تاہم اعتراضات اور گلے شکوے کے بعد بڑی جماعتیں چھوٹی جماعتوں کو رام کرنے میں کامیاب ہو گئی جس کے بعد آل پارٹیز کانفرنس کی تاریخ اور مقام پر تبادلہ خیال کیا گیا ذرائع کے مطابق سیاسی جماعتوں کے اراکین کا اے پی سی سے متعلق اپنی اپنی قیادت سے بھی رابطہ کیا ، ذرائع کے مطابق اے پی سی کی میزبانی کون کرے گا اس پر بھی بات چیت کے بعد پیپلز پارٹی کو میزبانی دے دی گئی تاہم اے پی سی کا ایجنڈا آئندہ اجلاس میں طے ہونے کا امکان ہے۔ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…