پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

ڈاکٹر ماہا علی کیس ، ملزم عرفان قریشی ضمانت پر رہا جنید اور وقاص نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی

datetime 1  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)عدالت نے ڈاکٹر ماہا کی خودکشی کے کیس میں نامزد ملزم عرفان قریشی کو ضمانت پر رہا کردیا۔سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے ڈاکٹر ماہا خودکشی کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں پولیس نے ملزم عرفان قریشی کو عدالت میں پیش کیا۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں نامزد دیگر 2 ملزمان وقاص اور جنید مفرور ہیں۔

ملزم عرفان قریشی نے عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کی درخواست منظور کرلی۔عدالت نے عرفان قریشی کو 5 لاکھ روپے زر ضمانت کے عوض رہائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو کیس سے بری نہیں کیا جارہا ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ پولیس مکمل تحقیقات کے بعد کیس کا چالان پیش کرے گی۔جبکہ مقدمے میں نامزد 2 ملزمان جنید اور وقاص نے عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی۔عدالت نے 50،50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ملزمان کی عبوری ضمانت منظور کی اور پولیس کو 5 ستمبر تک ملزمان کی گرفتاری سے روک دیا۔عدالت نے ملزمان کو پولیس کے ساتھ تفتیش میں شامل ہونے کا بھی حکم دیا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ڈیفنس میں خاتون ڈاکٹر ماہا علی نے گولی مار کر خودکشی کرلی تھی۔ڈاکٹر ماہا کے والد نے ملزمان کے خلاف ہراساں کرنے اور بلیک میلنگ کا مقدمہ درج کرایا ہے۔دوسری جانب اچی کے علاقے ڈیفنس میں خودکشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا علی کو گولی لگنے کے ابہام اور تضاد ختم کرنے کے لیے قبر کشائی اور میت کا پوسٹ مارٹم کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ بشیر احمد بروہی کے مطابق ڈیفنس میں خودکشی کے جائے وقوعہ کے معائنے سے شواہد ملے کہ ڈاکٹر ماہا علی کو گولی سر میں سیدھے ہاتھ سے لگی تھی۔ جناح اسپتال کے ایم ایل او ڈاکٹر حسان احمد نے

پوسٹ مارٹم کیے بغیر ماہا علی کی موت کی میڈیکل رپورٹ جاری کردی تھی۔ ایم ایل او ڈاکٹر حساناحمد کی جاری کردہ رپورٹ میں متوفیہ کو گولی الٹے ہاتھ سے لگنے کا ظاہر کیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق متوفیہ کے والد نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں ایم ایل او اور ملزمان کی ملی بھگت کا الزام عائد کیا تھا، میڈیکل رپورٹ اور جائے وقوعہ کے شواہد میں تضاد نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے،

میت کے پوسٹ مارٹم سے قانونی طور پر معاملہ کلیئر ہو جائے گا۔ایس ایس پی بشیر بروہی کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد گرفتار ملزمان کو مقدمہ کے ٹرائل میں میڈیکل رپورٹ سے فائدہ ہوگا، ڈاکٹر ماہا علی کی میت کا پوسٹ مارٹم کرنے سے صحیح میڈیکل رپورٹ بنے گی۔ایس ایس پی بشیر بروہی کے مطابق قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے انوسٹی گیشن پولیس کی جانب سے عدالت کو لکھا جائے گا، عدالتی حکم پر پولیس سرجن، ایم ایل اوز اور ڈاکٹروں کی ٹیم میرپور خاص جاکر قبر کشائی کرے گی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…