اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

تو کیا جناب عمران خان نے یہ تینوں کام کیے؟صبر کریں بچے حکومت کرنا سیکھ رہے ہیں،کسی نے کان میں پھونک دیا ہو گا کہ ‘ع ‘نام کا بندہ بہترین رہے گا‘ لہٰذا وہ عارف علوی ہوں یا عثمان بزدار۔۔ رئوف کلاسرا کےتہلکہ خیز انکشافات

datetime 23  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار رئوف کلاسرا اپنے کالم ’’کرپٹ سے نااہل تک!‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔تو کیا جناب عمران خان نے یہ تینوں کام کیے؟بیوروکریسی سے شروع کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے پرنسپل سیکرٹری کے لیے ایسے افسر کا انتخاب کیا جو یقیناً وفادار ہو گا‘ لیکن اسے فیڈرل حکومت اور پھر پنجاب کی بیوروکریسی کا تجربہ نہیں۔ وہ ایک جونیئر افسر تھا ایک چھوٹے

صوبے کو چلا کر آیا تھا۔ پھر آگے اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور برادری کے لوگوں سے دفتر بھر دیا۔ یوں ایک جونیئر افسر کی تعیناتی سے پنجاب کی بیوروکریسی ناراض ہوئی۔ اس نے ایک جونیئر افسر سے تعاون نہ کیا‘ یوں کام ٹھپ ہو گیا۔ دوسرا کام تھا‘ کابینہ کی ٹیم اعلیٰ بناتے تاکہ وہ سب مل کر ملک کو گمبھیر مسائل سے نجات دلاتے۔ ایسا بھی نہ ہو سکا۔ پھر ہر بندہ ایسی پوسٹ پر لگایا گیا جس کا اسے کچھ پتہ نہیں تھا۔ دو تین مثالیں دیکھ لیں۔ اعظم سواتی کا وزارت پارلیمنٹ سے کیا تعلق یا خالد مقبول صدیقی‘ ایک میڈیکل ڈاکٹر‘ کا انفارمیشن ٹیکنالوجی سے کیا لینا دینا؟ یا پھر عامر کیانی کا ادویات سے کیا تعلق تھا کہ پورا وفاقی وزیر بنا دیا گیا؟ عوام کی جیبوں پر ادویات کی مد میں چالیس ارب سے زائد کا بوجھ ڈالا گیا اور آج کل وہ نیب کی پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ پھر مشیر ایسے لگائے جو سب ذاتی دوست ہیں یا پارٹی کو چندہ دیتے رہے ہیں۔ سب کے اپنے اپنے کاروبار تھے اور وہ اپنے اپنے کاروبار کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں۔ حکمرانوں کی نا تجربہ کار ٹیم کا کاروباری دوستوں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ جہانگیر ترین، ترین کے ماموں شمیم احمد خان، خسرو بختیار کے بھائی، مونس الٰہی اور دیگر کی ملوں نے عوام کی جیب سے تین ارب روپے کی سبسڈی نکال لی اور ساتھ میں شوگر کی قیمت کو پچپن روپے سے بہتّر روپے تک بھی لے گئے۔ اس وقت چینی کی قیمت سو روپے فی کلو سے اوپر ہے۔

اب پندرہ لاکھ ٹن چینی امپورٹ ہو رہی ہے۔ یہی حال گندم کا ہوا۔ ابھی پنجاب میں گندم کا سیزن ختم نہیں ہوا تھا کہ آٹا مارکیٹ سے غائب ہو گیا اور بہت سارے لوگوں نے پیسہ بنا لیا۔ اب گندم بھی امپورٹ ہو رہی ہے۔ تیسرا آپشن تھا‘ پنجاب‘ خبیر پختون خوا میں ایسے وزرائے اعلیٰ لگاتے جو ڈیلیور کرتے۔ عثمان بزدار صاحب کا نام جناب وزیر اعظم نے بھی پہلی دفعہ ہی سنا ہو گا۔ کسی نے کان میں پھونک دیا ہو گا کہ

‘ع ‘نام کا بندہ بہترین رہے گا‘ لہٰذا وہ عارف علوی ہوں یا عثمان بزدار‘ سب کو اعلیٰ عہدے دے دیے۔اس ناتجربہ کاری کا اثر عوام بھگت رہے ہیں۔ بزدار صاحب سے پوچھیں تو کہتے ہیں: میں نیا نیا ہوں‘ سیکھ رہا ہوں۔ جناب وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ ابھی سیکھ رہے ہیں۔ جب یہ لوگ سیکھ جائیں گے تو پھر یقینا ڈیلیور بھی کریں گے۔ اس دن کا انتظار آپ بھی کریں‘ ہم بھی کرتے ہیں۔ ویسے قوم کو اتنی جلدی کیا ہے،

اتنا سیاپا کیوں ڈالا ہوا ہے۔صبر کریں بچے حکومت کرنا سیکھ رہے ہیں، سیکھ لیں گے تو سب ٹھیک کر لیں گے۔ کیا ہوا جو ادویات کے نام پر‘ چینی کے نام پر اربوں روپے جیبوں سے نکال لئے یا لوگ آٹا ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ پچھلے کرپٹ تو موجودہ نالائق نکلے ہیں۔ کرپٹ خطرناک تھے یا نا اہل؟

قسمت دیکھ لیں‘ ہمیں انتخاب بھی کرنا پڑا تو کرپٹ اور نااہلوں میں سے۔ تیسرا آپشن نہیں تھا۔ آگے سمندر تو پیچھے کھائی۔ کھائی میں گرو یا ڈبکیاں کھائو۔ کرپٹ حکمران قوم کو کھائی میں دھکا دے گئے تو نا اہل حکمران سمندر میں ڈبکیاں دے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…