زندگی کی پرواہ کئے بغیر کورونا مریضوں کا علاج کرنے والے گلگت بلتستان کے ڈاکٹر اسامہ ریاض ’’شہید‘‘ کیلئے ستارہ شجاعت کا اعلان

  جمعہ‬‮ 14 اگست‬‮ 2020  |  18:52

گلگت بلتستان( آن لائن )گلگت بلتستان کے ڈاکٹر اسامہ ریاض (شہید) کیلئے ستارہ شجاعت کا اعلان کیا گیا ہے۔ گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے شہید ڈاکٹر اسامہ ریاض کو سول ایوارڈ سے نوازنے کی سمری منظور کی تھی۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ شہید ڈاکٹر اسامہ ریاض نے بہادری اور شجاعت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیئے تاکہ اس مہلک بیماری سے انسانی جانوں کو بچایا جاسکےاور ان کی اس عظیم قربانی کے عوض انہیں پاکستان کا اعلی ترین سول ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔شہید ڈاکٹر اسامہ ریاض نے کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلائو کے تدارک


میں اپنی جان قربان کی اور انسانی جانوں کو بچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔جس کے بعد شہید ڈاکٹر اسامہ ریاض کو قومی ہیرو کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔۔شہید ڈاکٹر نے اپنی زندگی خطرے میں ڈال کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کیا۔انہوں نے اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر اپنی فرائض کی ادائیگی کو افضل سمجھا۔اور پھر اسی وائرس کا شکار ہو کر انتقال کر گئے۔شہید ڈاکٹر کو سوشل میڈیا پر بھی خراج تحسین پیش کیا گیا تھا،۔صارفین کا کہنا تھا کہ ہم شہید ڈاکٹر کو سلام پیش کرتے ہیں۔ایک صارف نے کہا کہ آپ بہادری کی علامت ہیں۔ایک صارف نے کہا کہ ڈاکٹرز،پاک فوج ریسکیوکے ادارے حکومت کے ہر اس فرد کی یا اللہ حفاظت فرما جو اپنے آج کی پرواہ کئیے بغیر ہم سب کی مدد کر رہے ہیں۔ایک صارف نے کہا کہ بے شک پاکستان اپ جیسوں کی قربانیوں کے دم پر قائم ہے اپ شہید ہیں، شہید کبھی مرتے نہیں۔ گلگت بلتستان کے ڈاکٹر اسامہ ریاض (شہید) کیلئے ستارہ شجاعت کا اعلان کیا گیا ہے۔ گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے شہید ڈاکٹر اسامہ ریاض کو سول ایوارڈ سے نوازنے کی سمری منظور کی تھی۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ شہید ڈاکٹر اسامہ ریاض نے بہادری اور شجاعت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیئے تاکہ اس مہلک بیماری سے انسانی جانوں کو بچایا جاسکے اور ان کی اس عظیم قربانی کے عوض انہیں پاکستان کا اعلی ترین سول ایوارڈ سے نوازا جائے گا


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎