منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

زندگی کی پرواہ کئے بغیر کورونا مریضوں کا علاج کرنے والے گلگت بلتستان کے ڈاکٹر اسامہ ریاض ’’شہید‘‘ کیلئے ستارہ شجاعت کا اعلان

datetime 14  اگست‬‮  2020 |

گلگت بلتستان( آن لائن )گلگت بلتستان کے ڈاکٹر اسامہ ریاض (شہید) کیلئے ستارہ شجاعت کا اعلان کیا گیا ہے۔ گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے شہید ڈاکٹر اسامہ ریاض کو سول ایوارڈ سے نوازنے کی سمری منظور کی تھی۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ شہید ڈاکٹر اسامہ ریاض نے بہادری اور شجاعت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیئے تاکہ اس مہلک بیماری سے انسانی جانوں کو بچایا جاسکے

اور ان کی اس عظیم قربانی کے عوض انہیں پاکستان کا اعلی ترین سول ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔شہید ڈاکٹر اسامہ ریاض نے کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلائو کے تدارک میں اپنی جان قربان کی اور انسانی جانوں کو بچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔جس کے بعد شہید ڈاکٹر اسامہ ریاض کو قومی ہیرو کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔۔شہید ڈاکٹر نے اپنی زندگی خطرے میں ڈال کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کیا۔انہوں نے اپنی زندگی کی پرواہ کیے بغیر اپنی فرائض کی ادائیگی کو افضل سمجھا۔اور پھر اسی وائرس کا شکار ہو کر انتقال کر گئے۔شہید ڈاکٹر کو سوشل میڈیا پر بھی خراج تحسین پیش کیا گیا تھا،۔صارفین کا کہنا تھا کہ ہم شہید ڈاکٹر کو سلام پیش کرتے ہیں۔ایک صارف نے کہا کہ آپ بہادری کی علامت ہیں۔ایک صارف نے کہا کہ ڈاکٹرز،پاک فوج ریسکیوکے ادارے حکومت کے ہر اس فرد کی یا اللہ حفاظت فرما جو اپنے آج کی پرواہ کئیے بغیر ہم سب کی مدد کر رہے ہیں۔ایک صارف نے کہا کہ بے شک پاکستان اپ جیسوں کی قربانیوں کے دم پر قائم ہے اپ شہید ہیں، شہید کبھی مرتے نہیں۔ گلگت بلتستان کے ڈاکٹر اسامہ ریاض (شہید) کیلئے ستارہ شجاعت کا اعلان کیا گیا ہے۔ گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے شہید ڈاکٹر اسامہ ریاض کو سول ایوارڈ سے نوازنے کی سمری منظور کی تھی۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ شہید ڈاکٹر اسامہ ریاض نے بہادری اور شجاعت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیئے تاکہ اس مہلک بیماری سے انسانی جانوں کو بچایا جاسکے اور ان کی اس عظیم قربانی کے عوض انہیں پاکستان کا اعلی ترین سول ایوارڈ سے نوازا جائے گا



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…