لوگوں کا غصہ اب اُبل رہا ہے ،ملک میں تبدیلی کا آغاز ہوچکا،پرویز رشید بھی میدان میں آ گئے

  جمعہ‬‮ 14 اگست‬‮ 2020  |  0:37

اسلام آباد (این این آئی)مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ ملک میں تبدیلی کا آغاز ہوچکا ہے،نہیں لگتا کہ حکومت اگلے چار پانچ ماہ نکال سکے گی، مریم نواز پر نیب میں پیش ہونے سے پہلے قاتلانہ حملہ کیا گیا،مسلم لیگ (ن )میں دھڑے بندی لوگوں کی خواہش رہی ہے ،اس پر عمل کبھی نہیں ہوا۔ جمعرات کو یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئیغ مسلم لیگ (ن )کےسینیٹر پرویز رشید نے کہاکہ موجودہ حکومت کا رہنا اب مشکل ہے،مجھے نہیں لگتا حکومت اگلے چار پانچ ماہ نکال سکے گی


۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں تبدیلی کا آغاز ہوچکا ہے ،یہ تبدیلی ہے کہ لوگوں کا غصہ اب ابل رہا ہے ،لوگ چاہتے ہیں کہ حکومت سے چھٹکارا حاصل ہو ۔ انہوںنے کہاکہ حکومتیں جب کمزور ہوجاتی ہیں تو وہ پولیس اور ملازمین سے لاقانونیت کرواتی ہیں ،مریم نواز پر نیب میں پیش ہونے سے پہلے قاتلانہ حملہ کیا گیا ،ایک وزیراعظم کی بیٹی کی لیاقت باغ کے باہر زندگی چھین لی گئی ۔ انہوںنے کہاکہ دوسرے وزیراعظم کی بیٹی کے ساتھ بھی اس طرح کا منظر لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ،مریم نواز کی گاڑی پر پہلے شیلنگ اور پھر پتھروں کی بارش کی گئی ،اللہ تعالی نے مریم نواز کی حفاظت فرمائی ۔سینیٹر پرویز رشید نے مسلم لیگ ن میں مریم نواز اور شہبازشریف کے الگ الگ دھڑوں کے تاثر کو مسترد کردیا ۔ انہوںنے کہاکہ میں مسلم لیگ میں دھڑوں کی باتیں 1993سے سن رہا ہوں،مسلم لیگ ن میں دھڑے بندی لوگوں کی خواہش رہی ہے لیکن اس پر عمل کبھی نہیں ہوا۔ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ ملک میں تبدیلی کا آغاز ہوچکا ہے،نہیں لگتا کہ حکومت اگلے چار پانچ ماہ نکال سکے گی، مریم نواز پر نیب میں پیش ہونے سے پہلے قاتلانہ حملہ کیا گیا،مسلم لیگ (ن )میں دھڑے بندی لوگوں کی خواہش رہی ہے


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎