نیب دفتر پر حملہ کرنے کی گھنائونی سازش کہاں تیار کی گئی؟ مریم نواز کی گاڑی کا شیشہ توڑنے والوں کو کتنی رقم دی گئی؟ ن لیگ کی ورکروں پر نوٹوں کی بارش، تہلکہ انگیز بات سامنے آ گئی

  منگل‬‮ 11 اگست‬‮ 2020  |  20:50

لاہور( این این آئی)پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ پیر کی رات جاتی امرا ء میں نیب دفتر پر حملہ کرنے کی گھنائونی سازش کے دوران کارکنان میں دس لاکھ روپیہ تقسیم کیا گیا جس میں سے پتھر مارنے والوں کو فی کس 25 ہزار اور مریم نواز کی گاڑی پر پتھر مار کر شیشہ توڑنے والوں کو ایک ،ایک لاکھ روپیہ دیا گیا،نیب کے دفتر کے باہر امن و عامہ کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی گئی اور نیب کے 20 سالہ دور میںاس طرح کی غنڈہ گردی کا مظاہرہ کبھی دیکھنے میں ملا ہو جس کا (ن)


لیگ کی جانب سے مظاہرہ کیا گیا ،یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آئی کہ مسلم لیگ (ن)نے سپریم کورٹ پر حملے کی تاریخ دہرائی ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے وزیر قانون راجہ بشارت اور دیگر کے ہمراہ 90شاہراہ قائد اعظم پر ہنگامی پریس کانفرنس کی ۔ انہوںنے کہا کہ بیگم صفدر اعوان نے آل شریف کی جانب سے آئینی و قانونی اداروں پر حملہ کرنے کی اعلی روایت کو زندہ کرتے ہوئے نیب دفتر پر حملہ کیا اور اس بدنامی کے داغ کو اپنے ماتھے پر سجا لیا۔ ان کے والد نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا اور آج نیب کی بیس سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ کسی جماعت کی طرف سے نیب پر حملہ کیا گیا جس کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ آلِ شریف کی سیاست، عزت اور وقار کو جتنا نقصان بیگم صفدر نے پہنچایا، اتنا کسی اور نے نہیں پہنچایا۔ نیب آفس پر حملہ دراصل بیگم صفدر اعوان کی جانب سے اپنے چچا شہباز شریف اور کزن حمزہ شہباز کی رہی سہی سیاست پر خودکش حملہ تھا،بیگم صفدر اعوان نے لیگی سیاست کا بقیہ جنازہ بھی نکال دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیر کی رات جاتی امرا ء میں نیب دفتر پر حملہ کرنے کی گھنانی سازش کے دوران کارکنان میں دس لاکھ روپیہ تقسیم کیا گیا جس میں سے پتھر مارنے والوں کو فی کس 25 ہزار اور مریم نواز کی گاڑی پر پتھر مار کر شیشہ توڑنےوالوں کو ایک ایک لاکھ روپیہ دیا گیا۔ لیگی کارکنان اپنی پارٹی قیادت سے بدظن ہیں جنہیں جلوس کی صورت میں نیب پیشی پر ساتھ لے جانے پر رضامند کرنے کے لیے پیسہ استعمال کرنے کا مشورہ سینئر لیگی رہنما اور بیگم صفدر اعوان کے اطالیق پرویز رشید صاحب نے دیا۔ انہوں نے کہا کہ بیگم صفدر اعوان کو دو سو ایکڑ زمین غیر قانونی طریقے سے اپنے نام کرنے کے کیس میں بلایا گیا تھا لیکن اپنی میڈیا ٹاک میں انکا سارا زورمسئلہ کشمیر اور دیگر بین الاقوامی امور کی طرف رہا تا کہ ان کی اس مذموم حرکت سے میڈیا اور عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بیگم صفدر اعوان سمجھتی ہیں کشمیر کو آزادی شاید مودی کی اماں کو ساڑھیاں تحفے میں بھیجنے، آموں کی پیٹیاں بھیجنے، سفارتی آداب کو نظر انداز کرتے ہوئے ہمسایہ ملک سے پاکستان دشمن قیادت کو اپنی شادیوں میں دعوت دینے سے ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کے تقدس کو پامال کرنےوالوں کو ہر صورت سزا ملے گی۔راجہ بشارت نے کہا کہ مریم نواز کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں بلکہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے بلایا گیا تھا۔نیب کے دفتر کے باہر امن و عامہ کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی گئی اور نیب کے 20 سالہ دور میں اس طرح کی غنڈہ گردی کا مظاہرہ کبھی دیکھنے میں ملا ہو جس کا مظاہرہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کیا گیا ،یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آئی کہ مسلم لیگ (ن)نے سپریم کورٹ پر حملے کیتاریخ دہرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی سامنے آئی کہ مسلم لیگ (ن)کرپٹ لوگوں کو بچانے کے لیے کس حد تک جاسکتی ہے اور اس کی غنڈہ گردی سے آئینی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے محفوظ نہیں رہ سکتی۔انہوں نے کہا کہ آج کی میڈیا کوریج اس بات کی شاہد کے کہ یہ واقعات کس طرح رونما ہوئے، آج کے تمام واقعات کا میڈیا عینی شاہد ہے اور میں میڈیا کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے بہت سی معلومات شیئر کیں اور مسلم لیگ(ن)کا اصل چہرہ بے نقاب کیا۔راجہ بشارت نے کہا کہ مریم نواز کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا لیکن وہ جلوس لے کر وہاں پہنچی جو اس بات کی دلیل ہے کہ مسلم لیگ (ن)اداروں کا احترام نہیں کرتی۔جو خاتون عدالت سے ضمانت پر ہے اس نے عدالت کی دی ہوئی رعایت کا غلط استعمال کیا کیونکہ کوئی بھی شخص جو ضمانت ہو قانون اسے ہر گز یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ آئینی و قانونی اداروں پر چڑھائی کرے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کی غلطفہمی ہے کہ وہ اس طرح کے اقدامات سے حکومت کو مرعوب کریں گے اور اداروں کو دبا ئومیں لے آئیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے اقدامات کیے اور یہ واضح کردوں کہ جن لوگوں نے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی، پتھرا ئوکیا، پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا، جو لوگ غیرقانونی طور پر وہاں اکٹھے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور مقدمات درج کرکے سزائیںدلوائی جائیں گی۔راجہ بشارت نے کہا کہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مریم نواز کی سکیورٹی کی گاڑیوں میں پتھر بھر کر لائے گئے، جسے کارکنوں میں تقسیم کیا گیا اور پھر پولیس اور نیب دفتر پر حملے میں انہیں استعمال کیا گیا۔جن گاڑیوں میں پتھر لائے گئے ان میں سے کچھ کے نمبر پلیٹ جعلی تھے جبکہ کچھ کو سکیورٹی کی آڑ میں مریم نواز کی گاڑی کے آگے رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ نیب نے اگر قانونی طور پر مریم نواز کو بلایا تھا تو وہ اکیلی یا چندکارکنوں کے ساتھ چلی جاتیں تو شاید یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی لیکن اب اس تمام صورتحال کے بعد مریم نواز کا کہنا کہ مجھے نقصان پہنچانے کے لیے بلایا گیا تھا تو میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ بی بی آپ کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں بلکہ آپ کے کرتوتوں کے سلسلے میں بلایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ جو ماضی میں آپ کرتی رہی ہیں اس کا حساب لینے کے لیے بلایا گیا تھا، جو کرپشن کی ایک داستان آپ نے رقم کی تھی اس کا حساب دینے کے لیےبلایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ نیب کی طرف سے استغاثہ موصول ہوچکا ہے جس میں کچھ لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ کچھ لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ نامعلوم ہے جن کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے نشاندہی کی جارہی ہے، اس کے علاوہ کچھ کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ یہ ہوا ہے کہ کوئی اسے الزام نہیں کہہ سکتا کیونکہ میڈیا نے ان تمام معاملات کو کور کیا ہے اور اس کی بنیاد پر ہی آج ہم یہ بات کر رہےہیں لیکن اس کے باوجود میڈیا نواز یہ کہیں کہ مجھے نقصان پہنچانے کے لیے بلایا گیا اور آگے سے پتھر آئے تو بی بی یہ وہ پتھر تھے جو آپ لے کر گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت قانون کی عملداری پر یقین رکھنے والی حکومت ہے، جو قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے گا اس کی کارروائی کریں گے۔راجہ بشارت نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کی خام خیالی ہے کہ وہ اس طرح سے کرکے کرپشن پر پردہ ڈال لے گی یا حکومت کو دبا ئومیں لے آئی گی یا عدالت اور آئینی ادارے کو دبا میں لے آئی گی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎