منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کے باوجود سندھ حکومت نے فضل الرحمان کے بھائی ضیا الرحمان کو عہدہ چھوڑنے سے روک دیا

datetime 10  اگست‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)کراچی کے ضلع وسطی میں تعینات خیبر پختونخوا حکومت کے افسر اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی ضیا الرحمان نے وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کے باوجود عہدے کا چارج نہیں چھوڑا۔ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے ضیا الرحمان کو عہدے پر برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے خیبر پختونخوا کے

افسر ضیا الرحمان کو ڈپٹی کمشنر کا عہدہ چھوڑنے سے روک دیا اور ضیا الرحمان کو ڈپٹی کمشنر کے حیثیت سے کام جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے ضیا الرحمان کی خدمات دوبارہ خیبر پختونخوا حکومت کو دینے کا نوٹیفکیشن 27 جولائی کو جاری کیا تھا۔ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کے افسر کی ڈپٹی کمشنر سینٹرل کراچی تعیناتی پر سندھ حکومت کے افسران میں بھی تشویش پائی جاتی ہے جب کہ پیپلز پارٹی کی قیادت مولانا فضل الرحمان کے بھائی کی سندھ میں تعیناتی برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کے باوجود وہ ڈپٹی کمشنر سینٹرل کی آسامی پر کام کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ ضیا الرحمان کی تقرری پر پاکستان تحریک انصاف نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ کراچی کے ضلع وسطی میں تعینات خیبر پختونخوا حکومت کے افسر اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی ضیا الرحمان نے وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کے باوجود عہدے کا چارج نہیں چھوڑا۔ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے ضیا الرحمان کو عہدے پر برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے خیبر پختونخوا کے افسر ضیا الرحمان کو ڈپٹی کمشنر کا عہدہ چھوڑنے سے روک دیا اور ضیا الرحمان کو ڈپٹی کمشنر کے حیثیت سے کام جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…