کراچی میں تیسرے روز بھی بارش، 11 افراد جان کی بازی ہار گئے، ضلع دادو میں بارشوں نے تباہی مچا دی

  اتوار‬‮ 9 اگست‬‮ 2020  |  0:17

کراچی (این این آئی) شہر قائد میں مسلسل تیسرے روز بھی وقفے وقفے سے کہیں تیز اور کہیں ہلکی بارش کا سلسلہ جاری رہا جب کہ اس دوران پیش آنے والے حادثات و واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جس سے جہاں گرمی کا زور توڑ دیا ہے وہیں لوگوں کی مشکلات میں بھی کسی حد تک اضافہ ہوا ہے۔کراچی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں مسلسل تیسرے روز بھی وقفے وقفے سے کہیں تیز تو کہیں ہلکی


بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ مسلسل بارشوں کے باعث شہریوں کی اکثریت گھروں تک محدود ہے۔ ڈی ایم سیز، کے ایم سی، حکومت سندھ، این ڈی ایم اے اور پاک فوج پانی کی نکاسی کے لیے جاری ریلیف آپریشن میں مصروف ہیں۔مون سون بارشوں کے دوران کراچی کا بیشتر حصہ بجلی سے محروم ہے۔ اورنگی، خداداد کالونی، لانڈھی، پی ای سی ایچ ایس ، اولڈ سٹی ایریا اور کورنگی میں گزشتہ رات سے بجلی غائب ہے جب کہ سرجانی ٹان، خاد کی بستی اور دیگر مضافاتی علاقوں میں گزشتہ 2 روز سے بجلی غائب ہے۔بجلی کی بندش سے متعلق کے الیکٹرک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کچھ نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ہمارے عملے کو بجلی بحالی میں مشکلات درپیش آرہی ہیں، بعض مقامات پر پانی کھڑا ہونے کے باعث یکسر بجلی بحال کر دینا جانی نقصان کا باعث ہوسکتا ہے، انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے، سیفٹی کلیرنس ملتے ہی متعلقہ علاقوں میں بجلی بحال کی جارہی ہے،متعلقہ اداروں سے نشیبی علاقوں سے نکاسی آب کی اپیل کرتے ہیں۔گزشتہ 3 روز سے جاری مون سون بارشوں کے دوران شہر میں پیش آنے والے مختلف حادثات و واقعات میں 8 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، جن میں سے 7 افراد کرنٹ لگنے، ایک بچی ڈوبنے سے جب کہ دو افراد مکان کی چھت گرنے سے جاں بحق ہوئے۔کراچی اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ رنٹ لگنے کے حادثات افسوسناک ہیں تاہم ان کا ہمارے انفرا اسٹرکچر سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ غیر قانونی طریقے سے بجلی حاصل کرنے کی وجہ سے پیش آئے ہیں۔حیدرآباد شہر میں تیسرے روز بھی مختلف شاہراہوں اور چوراہوں پر بارش کا پانی جمع ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہے اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔نورانی بستی، تالاب نمبر 3، نیو کلاتھ مارکیٹ روڈ، فقیر کا پڑ چوک، گڈز ناکہ، اسٹیشن روڈ ، قاضی قیوم روڈ، لطیف آباد یونٹ 8، 10 اور 11 کے علاوہ آٹو بھان روڈ اور شاہ مکی روڈ سب سے زیادہ متاثر ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون سسٹم کی شدت تاحال برقرار ہے اور بارش برسانے والے سسٹم کا پھیلا بلوچستان تک ہے۔ بارش کا سلسلہ آج شب تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کی توقع ہے، کراچی میں مزید 30 ملی میٹر تک بارشہوسکتی ہے، مون سون سسٹم آج برسنے کے بعد کمزور پڑنا شروع ہو جائے گا لیکن کراچی میں اتوار کو بھی بوندا باندی اور ہلکی بارش کا امکان ہے۔سندھ کے ضلع دادو کے مختلف علاقوں میں گذشتہ شب سے بارش جاری ہے۔تحصیل جوہی کاچھو کے پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔پچاس سے زائد دیہات بھی زیرآب آچکے ہیں۔لوگ جانیں بچانے کیلئے درختوں پر چڑھ گئے۔مختلف علاقوں میں گذشتہ شب سے جاری بارشنے تباہی مچادی ہے۔ تحصیل جوہی کاچھو کے پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے۔ پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے متاثرین سے رابطہ کیا ہے۔ حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے پہاڑی سلسلے سے اچانک پانی کا ریلا گاج ندی میں آیا۔ گاج ندی میں طغیانی کے بعد پانی کی سطع اٹھائیس فٹ تک پہنچ گئی جس سے پچاس سے زائد دیہات بھی زیر آب آچکے ہیں اور متعدد افراد کی پانی میں بہہ جانے کی اطلاعات ہیں۔ کاچھومیں سیلابی پانی سے دو سو چھوٹے بڑے دیہات زیرآب آنے کی اطلاعات ہیں۔حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ لوگ جانیں بچانے کیلئے درختوں پر چڑھ گئے۔انتظامیہ مکمل غائب ہے اور ایم این اے مری گھوم رہے ہیں۔ کاچھو میں اس وقت بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔کراچی میں تو این ڈی ایم اے نے صفائی کردی اور نقصان سے بچ گئے مگر دوسرے اضلاع میں نمائندے ڈیڑھ فٹ پانی میں تصویریں بنا رہے ہیں۔ سندھ حکومت فوری دادو پہنچے اور لوگوں کی مدد کرے۔میری گورنر سندھ سے اس معاملے پر بات ہوئی ہے۔گورنر صاحب نے چیف سیکریٹری اور این ڈی ایم اے کو امدادی کام کیلئے ہدایت دے دی ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎