بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

کسی کو لگی لگائی نوکری سے فارغ کیسے کر سکتے ہیں؟چیف جسٹس نے پشاور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے 300 ملازمین کی سن لی،بڑا حکم جاری

datetime 5  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے پشاور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں تین سو ملازمین کی مستقلی سے متعلق اپیل کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے کسی وائس چانسلر یا سنڈیکیٹ کے مطابق نہیں چلتے، قانون کے مطابق تین سال پر

کنٹریکٹ ملازمت کرنے والے کو مستقل کیا جاسکتا ہے، کسی کو لگی لگائی نوکری سے فارغ کیسے کر سکتے ہیں۔معاملہ کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نیکی۔دوران سماعت جسٹس اعجازلاحسن نے ریمارکس دئیے کہ تین سو لوگوں کو کس قانون کے تحت مستقل کیا گیا،ان لوگوں کا کیا ہوگا جنہوں نے 8سال تک اپنی خدمات سرانجام دیں،جامعہ نئی بھرتیاں کیوں کرنا چاہتی ہے اور جو ہیں ان مستقل کرنے میں کونسی پریشانی ہے،یونیورسٹی کے وکیل نے عدالت بتایا کہ مجوزہ ملازمین میں سے کچھ پوسٹوں پر تشہیر کی گئی تھی اور کچھ یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے زریعے بھرتی ہوئے تھے۔عدالت عظمیٰ نے نے پشاور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں تین سو ملازمین کی مستقلی سے متعلق اپیل کو قابل سماعت قرار دیتے  ہوئے   معاملے  کی سماعت غیر  معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…