بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

طارق فاطمی اور سرتاج عزیز بیک وقت وزارت خارجہ میں بیٹھے تھے ،کیا تب حساس فیصلے نہیں ہوتے تھے ،وہ جائز تھے اور اب ناجائز ہیں ، کشمیرکے سودے بارے بھی اہم بات کر دی گئی

datetime 22  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) سینیٹ میں قائد ایوان شہزاد وسیم نے واضح کیا ہے کہ کشمیر کا سودا کوئی نہیں کرسکتا ،جب نواز شریف مودی کی تقریب حلف برداری میں گئے ہم نے تب بھی نہیں کہا تھا کشمیر کا سودا ہوگیا ،اب ہمیںکہتے ہیں کشمیر کا سودا کیا جارہا ہے ،طارق فاطمی اور سرتاج عزیز بیک وقت وزارت خارجہ میں بیٹھے تھے ،کیا تب حساس فیصلے نہیں ہوتے تھے ،وہ جائز تھے اور اب ناجائز ہیں ، دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے،

پارلیمنٹ مل کر بیٹھے اور نیب قانون کی کمزوریوں کو دور کرے ،ترمیم کو احتساب کے قانون سے بچنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ بدھ کو سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہزاد وسیم نے کہاکہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے دورہ بھارت میں حریت قیادت کی بجائے جندال سے ملاقات کی ،نوازشریف نے مودی کو اپنے گھر بلایا اور ہمیں کہتے ہیں کشمیر کا سودا کیا جارہا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں کشمیر ، برہان وانی اور اسلام و فوبیا کی بات کی۔ انہوںنے کہاکہ آئینی و قانونی بندش نہ ہونے کے باوجود وزیراعظم نے اپنے معاونین کے اثاثے ظاہر کرنے کیلئے کہا ۔ انہوںنے کہاکہ طارق فاطمی اور سرتاج عزیز بیک وقت وزارت خارجہ میں بیٹھے تھے کیا تب حساس فیصلے نہیں ہوتے تھے ،وہ جائز تھے اور اب ناجائز ہیں ، دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ تمام عدالتی فیصلوں کا احترام کرنا سب پر لازم ہے ،پانامہ کیس میں گارڈ فادر کا ذکر کیا گیا جو مافیا فیملی کی کہاں ہے۔ قائد ایوان نے کہاکہ نوازشریف نے پی پی پی کی قیادت پر مقدمات کیلئے سیف الرحمان کی قیادت میں احتساب کمیشن بنایا ،آج جو نیب ہے اس کا ڈھانچہ بھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کا بنایا ہوا ہے ،چیئرمین نیب بھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور کے بنائے ہوئے ہیں ،نوے فیصد مقدمات بھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور کے بنائے ہوئے ہیں ،تحریک انصاف نے نیب قانون میں ترمیم کی کوشش کی ،تحریک انصاف

کو لوگوں نے احتساب کے لیے ووٹ دیا ،ہمیں احتساب کے نظام میں کمزوریوں کا احساس ہے ،لوگ سوال کرتے ہیں کیوں لوگ احتساب سے بچ کر باہر نکل جاتے ہیں ،پارلیمنٹ مل کر بیٹھے اور نیب قانون کی کمزوریوں کو دور کرے ،ہم نے احتساب کے قانون کو مضبوط کرنا ہے ،ترمیم کو احتساب کے قانون سے بچنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ اوورسیز مزدوروں کا ملک کی ترقی میں اہم کردار ہے ،کورونا کی صورتحال میں اورسیز پاکستانیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ،حکومت نے اورسیز پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے کوششیں کی ہیں ،واپس آنے والے پاکستانیوں کے لیے پورٹل لانج کیا ،حکومت شہریوں کی خدمت کے لیے ہر ممکن کوشش کررہی ہے ۔کرشنا کماری نے کہاکہ ریڈیو پاکستان کے ڈیلی ویجز دوہزار ملازمین کو تین ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں ،ڈیلی ویجز ملازمین فاقوں پر مجبور ہو رہے ہیں ،چیئرمین سینیٹ نے معاملہ حل کرنے کی ہدایت کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…