جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

’’جس دن حکومت ختم ، مشیر فوری کیا کام کریں گے ‘‘ دوہری شہریت رکھنے والے سات مشیر پتہ نہیں کس بیرونی ایجنسی کی ایجنڈے پر ۔۔حیرت انگیز دعوی

datetime 20  جولائی  2020 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ میں کورونا سے بچاؤ کیلئے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں، کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی فیصلے پر حکومت کا ردعمل موثر نہیں تھا، دہری شہریت رکھنے والے سات مشیر پتہ نہیں کس بیرونی ایجنسی کی ایجنڈے پر ہوں،جس دن حکومت ختم ہوئی یہ مشیر بیرون ملک نکل جائیں گے،

سیاسی امور کا مشیر ایک امریکی شہری شہباز گل ہے جو کسی کے وفادار یا غدار ہونے کا فیصلہ کرتا ہے ،پی ٹی آئی حکومت کیخلاف عوام کی عدالت میں جائیں گے، حکومت کے خاتمے کیلئے کسی غیرجمہوری راستے کی حمایت نہیں کریں گے، کورونا باقی دنیا کیلئے مصیبت پی ٹی آئی حکومت کیلئے رحمت ثابت ہوا ہے، عثمان بزدار اور محمود خان ایک جیسے ہیں دونوں کی کوئی کارکردگی نہیں ہے، عوام جماعت اسلامی کو ووٹ دے تو ہم ایک فلاحی اسلامی ریاست تشکیل دے سکتے ہیں۔ نجی ٹی وی جیو کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ کورونا سے بچاؤ میں میرا کوئی ذاتی کمال نہیں اللہ کی مہربانی ہے، کورونا سے بچاؤ کیلئے ہر ممکن احتیاط کرتا ہوں، اگر کوئی احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کرتا تو میں اس رویے کو پسند نہیں کرتا، الخدمت فاؤنڈیشن نے رنگ ونسل ، سیاست و مذہب سے بالاتر ساری انسانیت کی خدمت کی ہے، الخدمت فاؤنڈیشن نے اب تک 85لاکھ لوگوں کو تعاون پہنچایا ہے، کورونا وبا پر حکومتی کارکردگی عیاں ہے، کورونا سے نمٹنے کیلئے وفاقی اور چاروں صوبوں کی پالیسی یکساں نہیں ہے، کورونا سے نمٹنے کیلئے حکومت کو جواقدامات کرنے چاہئے تھے وہ نہیں کرسکی،کبھی کہتی ہے گھبرانا نہیں ہے کبھی کہتی ہے بہت گھبرانا ہے۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ عیدالاضحیٰ میں کورونا سے بچاؤ کیلئے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں،

قربانی کی جگہوں پر صفائی اور آئسولیشن کا خیال کرنا ہوگا، تمام کارکنوں کو ہدایت دی ہے کہ اجتماعی قربانیوں میں احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، سعودی حکومت نے علمائے کرام سے فتویٰ لے کر رواں سال حج پر بیرون ملک سے لوگوں کے آنے پر پابندی لگائی ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ کشمیر پر موجودہ حکومت کی پالیسی پچھلی حکومتوں کا تسلسل ہے، پچھلی حکومتوں میں کشمیر کمیٹی کے

اجلاس ہوجاتے تھے مگر اس حکومت میں آٹھ مہینے کوئی چیئرمین ہی نہیں تھا، پی ٹی آئی حکومت میں ریاست کشمیر کے نام سے ریاست کا نام و نشان ختم ہوگیا ہے، کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی فیصلے پر ہماری حکومت کا ردعمل مناسب اور موثر نہیں تھا، مقبوضہ کشمیر کے لوگ حکومت پاکستان کے اس رویے پر بے پناہ پریشان ہیں، حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام ہے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ہمارا مطالبہ تھا کہ حکومت پاکستان کشمیر کی تمام قیادت کو ایک طاقت بنادے،کشمیر کمیٹی کا چیئرمین تجربہ کار اور کشمیر سے واقفیت رکھنے والا شخص ہونا چاہئے۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…