بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

عمران خان کی اچھی نیت جائے بھاڑ میں، اسے یہ ملک کھیلنے کےلیے نہیں دیا جا سکتا ،حفیظ اللہ نیازی وزیر اعظم کیخلاف پھٹ پڑے ، کھری کھری سنا دیں

datetime 17  جولائی  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےحفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ ۔۔۔حضور یہ بات وقت سے پہلے تسلیم کر لی جائے کہ یہ حکومت فیل ہو چکی ہے ،عثمان بزدار بھی جانے والے ہیں اگر انہوں نے 2مہینے بھی گزار لئے تو سسٹم جہاں پہنچے گا وہاں سے نہیں نکل سکے گا۔

پاکستان ان حالات سے نکل جائے تو اچھا ہوگا لیکن یہ معجزہ ہوگا،16دسمبر 1971سے ایک دن پہلے ،اس وقت میری عمر 19سال تھی ، بڑا باشعور تھا ،ہوش و حواس میں تھا، مجھے وہ دن یاد ہے اس دن تک سب اچھے کی رپورٹ تھی ،میرا دل کرتا ہے کہ عمران خان کو کیا نام دوں۔۔۔لیکن ہم عمران خان کو کہیں گے کہ اس کی نیت اچھی ہے ،نیت تو جائے بھاڑ میں ،میراملک اس وقت تنگی کا شکارہے ،کشمیر کا واقعہ کوئی چھوٹا واقعہ نہیںلیکن ہم ڈسکس نہیں کرتے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہماری قوم کا مورال نیچے گرے،لیکن واردات بہت بڑی ہے ،مشرقی پاکستان نہیں تو اس کے قریب قریب ہے لیکن آپ کو ماننا پڑیگا کہ عمران خان کوخود احتسابی کرنی پڑیگی، ان کو اپنے آپ سے پوچھنا پڑیگا،پاکستان میں جتنا میں عمران خان کو جانتا ہوں ، جتنی مجھے سہولت حاصل ہے، میں اس کا ذہن پڑھ سکتا ہوں، ایک ہے کہ وہ ہمیں مطمئن کریں ، ایک ہے کہ وہ اپنے آپ کو مطمئن کریں، یہ پورے ملک کا معاملہ ہے ، انہیں ملک کھیلنے کیلئے نہیں دیا جا سکتا۔ پروگرام کے دوران انہوں نے مزید کیاکہا آپ بھی سنیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…