بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

کس کے دباؤ پر وزیراعظم نے واہگہ بارڈر سے بھارت کو افغانستان کے ساتھ تجارت کی اجازت دی؟فیصل واوڈا کے امریکن پاسپورٹ بارے بھی تہلکہ خیز انکشاف

datetime 16  جولائی  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو احسان اللہ احسان کے اکاؤنٹس سے دھمکی دی گئی، ابھی تک اس کا نوٹس نہیں لیا گیا، حکومت اس پر وضاحت دے،جب سے وزیرہوابازی نے پائلٹس کے لائسنس جعلی قرارد ئیے ہیں تب سے پی آئی اے کی پروازیں دنیا نے بند کرنا شروع کر دی ہیں، ڈی جی سول ایوی ایشن نے وزیرہوابازی کے متضاد بیان دیا ہے

ان میں سے جس نے جھوٹ بولا ہے وہ گھر جائے، پی آئی اے کو پچاس کروڑ روپے کا روزانہ کا نقصان ہورہا ہے، مڈل ایسٹ کی ائیرلائنز سارا ریونیو لے رہی ہیں، وزیراعظم نے کس کے دباؤ پر واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارت کو افغانستان کے ساتھ تجارت کی اجازت دی، چینی چور، آٹا چور، پٹرول کا بحران پید اکرنے والے اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والے تمام بنارسی ٹھگ وانٹڈ ہیں، فیصل واوڈا کا امریکن پاسپورٹ ابھی تک قابل عمل ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ میں نے نیشنلٹی چھوڑ دی ہے، موٹروے کے ایم تھری،ایم فائیو پر سروس ایریا بنا دیا گیا ہے مگر وہاں پر پٹرول نہیں ملتا، پنجاب سے پی ٹی آئی کے اتحادی ناقص حکمرانی کی وجہ سے ان کو چھوڑ رہے ہیں، کرپشن پی ٹی آئی کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ان خیالات کا اظہار پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پلوشہ خان اور سیکرٹری فنانس حیدر زمان قریشی نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ نذیر ڈھوکی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف وبا بن کر دو سال سے عوام پر حکمرانی کر رہی ہے۔ چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم کو پارلیمنٹ سمیت تمام فورمز پر مناظرے کا چیلنج کیا ہے۔ عوام خود فیصلہ کرلیں گے کہ کون درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ میں ہر ہفتے اسمبلی میں آکر عوام کے سوالوں کا جواب دونگالیکن آج تک جواب

نہیں دیا۔بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو کرپشن پر تین چیلجز کیے لیکن اس پر جواب ابھی تک نہیں آیا۔ چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت پنجاب اور کے پی کے سے سندھ کے ہسپتال جیسا ایک ہپستال بتادیں۔ پی ٹی آئی ابھی تک ابراج کے حوالے سے جواب نہیں دیا جو ان کے ڈونر ہیں۔ بی آر ٹی اور مالا جبہ کی کرپشن پر آج تک جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ احسان اللہ احسان کو سیف ہاؤس سے فرار ہونے کا کوئی جواب نہیں ملا۔

اس لئے عوام عمران خان کو طالبان خان کہتے ہیں۔ نفیسہ شاہ نے کہا کہ جب سے وزیر ہوابازی نے پائلٹس کے لائسنس کے حوالے سے بیان دیا ہے کہ چالیس فیصد پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں تب سے دنیا نے پی آئی اے کی پروازیں بند کرنا شروع کر دی ہیں۔ پروازیں نہ ہونے کی وجہ سے پی آئی اے کو روزانہ پچاس کروڑ روپے نقصان ہو رہا ہے۔ جی ڈی ایوی ایشن کا بیان وزیر کے بیان سے متضاد ہے۔ اس طرح کا نقصان تو کوئی دشمن بھی نہیں کر

سکتا۔ امریکی ایوی ایشن کی طرف سے خط آیا ہے کہ پی آئی اے کی کیٹیگری مزید کم کر دی گئی ہے۔ پہلے وزیراعظم کہتے تھے کہ کوئی حادثہ ہو تو متعلقہ وزیر کو استعفیٰ دینا چاہیے اب کوئی استعفیٰ کیوں نہیں آرہا۔ پی آئی کے معاملے کو ہم بالکل نہیں چھوڑیں گے۔ پلوشہ خان نے کہا کہ احسان اللہ احسان کی بلاول بھٹوزرداری کو دھکمی براہ راست عمران خان سے منسلک کرتے ہیں۔احسان اللہ احسان کا پتہ ہوناچاہیے کہ وہ کدھر اور کس حال

میں ہیں۔ جو نیب سے نہیں ڈرے ان کو دہشتگردوں سے دھمکیاں دلوا کر ڈرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی افغانستا ن کے ساتھ تجارت کے لئے واہگہ بارڈر بنا بتائے کھول دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ حکومت پانچ اگست کو کشمیر کے حوالے سے ڈرامہ رچائے گی۔ ہم عمران خان سے پوچھتے ہیں کہ کس کے حکم پر بھارت کو نوازا جا رہا ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے سوالات کا جواب ابھی تک نہیں دیا گیا۔ زلفی بخاری

اشتہاری ہے جو روزویلٹ ہوٹل پر رال ٹپکاتا ہے۔علیمہ خان سے رسیدیں نہیں پوچھی جاتیں جبکہ قاضی فائز عیسیٰ سے پوچھا جا رہا ہے۔چینی چور، آٹا چور، پٹرول بحران پیدا کرنے والے اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والے تمام وزیر بنارسی ٹھگ ہیں جو عوام کو لوٹتے ہیں اور بعد میں ان کی گردن مروڑتے ہیں۔ موجودہ حکومت کلبھوشن کا نام کیوں نہیں لیتی۔ اس حکومت نے کشمیر کو بھارت کے حوالے کر دیا ہے۔ فارن فنڈنگ کا پوچھا جائے

ابراج کی کرپشن پر سوال دیا جائے تو یہ لوگ دھمکیاں دلواتے ہیں لیکن بلاول بھٹو زرداری اس ماں کو بیٹا ہے جس نے دہشتگردوں کا للکارا تھا۔ اس طرح سے آپ بلاول بھٹو زرداری کو ڈرا نہیں سکتے۔ حیدر زمان قریشی نے کہا کہ فیصل واوڈا کا امریکن پاسپورٹ ہے جو ہم الیکشن کمیشن کو دیں گے اس کا نمبر 530572047ہے، ان کی تاریخ پیدائش 21اکتوبر 1973ہے، پاسپورٹ 22مئی 2015کو بنا۔ 21مئی 2025کو ایکسپائر ہو جائیگا۔لیکن یہ

کہتے ہیں کہ میں نے نیشنلٹی چھوڑ دی ہے جبکہ ان کا پاسپورٹ ابھی تک قابل عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ میانوالی میں عمران خان کے کزن کی کرپشن کی آڈیو عوام کے سامنے آچکی ہے۔ مراد سعید کی وزارت میں ایک سے سات گریڈ کے لوگ کابینہ کی منظوری کے باوجود ابھی تک اپ گریڈ نہیں ہوئے۔ موجودہ حکومت کی 270ارب کی کرپشن کی رپورٹ آڈیٹر جنرل نے بتائی ہے۔ زراعت کا جی ڈی پی میں 23فیصد حصہ ہے لیکن کسان کھادو ں کے

لئے رُل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سال ہو گیا ہے ایم فائیو موٹروے اور ایم تھری پر سروس ایریا میں کوئی پٹرول پمپس نہیں بنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس حکومت کی کرپشن روز عوام کے سامنے لائے گی۔ پی ٹی آئی نے چار چئیرمین ایف بی آر، چار چیف سیکرٹری، آئی جیز تبدیل کئے لیکن کوئی فرق نہیں پڑا۔ انہوں نے کہا کہ امین گنڈا پور شہد کی بوتل لے کر آتا ہے اور بنی گالہ پہنچ کر دوگنی ہو جاتی ہیں۔ پی ٹی آئی کی ٹائیگر

فورس عوام سے بھتہ لے رہی ہے۔ میانوالی کے سکولوں سے سو فیصد ناکامی کا رزلٹ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے التماس ہے فارن فنڈنگ کا کیس ملکی مفاد میں ہی سن لیا جائے۔ حکومتی وزیر علی زیدی کو جے آئی ٹی کا مطلب بھی پتہ نہیں۔ وہ جے آئی ٹی پر دستخط کرنے والے افسران کی تضحیک کر رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی پی آئی اے، سٹیل ملز کو فروخت ہونے نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں ایڈیشنل آئی جی اور ایڈیشنل چیف لگانے سے وہاں کے مسائل حل نہیں ہونگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…