کرپشن کے خاتمے کیلئے حکومت کا اکاؤننٹنٹ جنرل پاکستان رینیو کو ڈیجیٹل خطوط پر آراستہ کرنے کا شاندار فیصلہ

  اتوار‬‮ 12 جولائی‬‮ 2020  |  0:58

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی حکومت نے ملک خصوصاً سرکاری اداروں میں کرپشن کے خاتمے کیلئے اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان رینونیو کو ڈیجیٹل اور جدید خطوط سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ہفتے کو وزیر اطلاعات شبلی فراز نے چیئرمین وزیر اعظم معائنہ کمیشن احمد یار ہراج کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اداروں میں اصلاحات تحریک انصاف کے منشور میں شامل ہےاور حکومت اپنے منشور کے مطابق ترجیحات کا تعین کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے منشور کی پاسداری کرتے ہوئے مختلف اقدامات اٹھائے اور اس میں اداروں کی شفافیت


اور اداروں کا مستحکم ہونا وہ ایک بہت بڑا مرحلہ تھا اور اس میں ہمیں مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ ہر سطح پر اداروں کو فعال کرنا ہمارے لیے اہمیت رکھتا ہے اور کہیں نہ کہیں سے ہمیں شروعات تو کرنی ہی ہے، ہمارے لیے تمام ادارے اہم ہیں لیکن جو ادارہ خاصی اہمیت کا حامل ہے وہ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان رینیو(اے جی پی آر) ہے، یہ ایک وفاقی ادارہ ہے لیکن ڈسٹرکٹ کی حد تک اس کی موجودگی ہے۔شبلی فراز نے کہا کہ حکومت جتنی بھی خریداری کرتی ہے اس کی ادائیگی اے جی پی آر سے ہوتی ہے اور ہم نے دیکھا ہے کہ ایک چیز ہم خود خریدیں تو اس کی لاگت کچھ اور ہوتی ہے لیکن اگر سرکاری طور پر خریدنا چاہئیں تو اس کا ریٹ کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت ایک کھرب روپے کی خریداری کرتی ہے تو اس میں اندازے کے مطابق150سے 200 ارب زیادہ لئے جاتے ہیں، اس میں پی آئی اے، سوئی ناردرن، ریلوے سمیت دیگر اداروں کی خریداریاں شامل نہیں ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبائی وسائل 58فیصد ہوتے ہیں اور اگر ان کی خریداری کو بھی لے لیں اور ان کا بھی ایک کھرب روپے لگا لیں تو یہ 300-350 ارب روپے پاکستان کے عوام اضافی ادا کرتے ہیں اور یہ عوام کیجیب سے جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم پچھلے 10سال کا لے لیں تو تقریباً ساڑھے تین سے 4کھرب روپے چیز کی اصل قیمت سے زائد خرچ ہوئے تو آپ انداز ہ لگا سکتے ہیں کہ جو قرض ہم لیتے ہیں اور جو ٹیکسز لگائے جاتے ہیں اس کی بنیادی جڑ کرپشن ہے جس کو اس میں شامل کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن والے اکٹھے ہوئے ہیں تو ان کا بنیادی مقصد عمران خان کی ذات کو نشانہ بنانا ہے اور اس پر وہ دباؤ ڈالنا ہے جو وہ کبھی قبولہی نہیں کرتے جس کی وجہ سے ان کی پہلی ترجیح ہے اس نظام کو پایہ تکمیل نہ پہنچنے دیا جائے کیونکہ اگر یہ ہو گیا تو یہ سارے جیلوں میں ہوں گے۔اس موقع پر چیئرمین وزیر اعظم معائنہ کمیشن احمد یار ہراج نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر معائنہ کمیشن نے سرکاری خریداری کا معائنہ کیاجس میں چند ماہ لگے اور اس میں بہت بدعنوانیاں سامنے آئیں اور یہ بگاڑ حکومتی اخراجات میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔انہو ں نے کہاکہ وزیر اعظممعائنشہ کمیشن اپنی تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ نجی شعبے کی نسبت حکومتی خریداری بہت زیادہ مہنگی ہے، اس کی وجوہات میں ٹیکسز کے ساتھ ساتھ اسپیڈ منی کا نظام ہے جسے آپ کرپشن بھی کہہ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی بل بھی ایسا نہیں ہے کہ اکاؤنٹ آفس میں اس کی پیمنٹ آسانی سے حاصل کی جا سکے، اس میں قانون کے مطابق کیا جانے والا پری آڈٹ ہے لیکن اسی کے ساتھ خواہ مخواہ کے اعتراضات لگا دیے جاتے ہیںاور معاملے کو الجھا کر رقم کی ادائیگی میں اتنی تاخیر کردی جاتی ہے کہ ان کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور یہ چیز اپنے اگلے بلوں میں شامل کر کے حکومتی خریداری میں قیمتیں بڑھا کر وصول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔احمد ہراج نے کہا کہ درحقیقت سرکاری ادارے خریداری کی مد میں ملوث اپنے ہی ملازمین کی کرپشن کی اضافی رقم ادا کررہے ہیں اور حکومت اپنے ہی ملازمین کی کرپشن کے پیسے ادا کر رہی ہے، اس کو درست کرنا وزیراعظم کی سوچ کے عین مطابق ہے۔انہوں نے کہا کہ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو حکومت کا ایسا ادارہ ہے جو وفاقی حکومت کی تمام خریداری اور ادائیگوں کو دیکھتا ہے اور اسی طرح صوبوں میں اکاؤنٹنٹ جنرل موجود ہیں اور ان کے ذیلی دفاتر اضلاع میں موجود ہوتے ہیں۔چیئرمین وزیر اعظم معائنہ کمیشن نے کہا کہ ہم وزیر اعظم کو سفارش بھیج رہے ہیں کہ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کو ڈیجیٹل خطوط پر آراستہ کرتے ہوئے SAP سسٹم سےلیس کیا جائے اور یہ وزیر اعظم کے ڈیجیٹل پاکستان کی سوچ کے عین مطابق ہے۔انہوں نے کہا کہSAP سسٹم کو اکاؤنٹس آفس نے آج سے 16سال قبل خرید لیا گیا تھا اور منگوا لیا تھا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا سکا لہٰذا ہم وزیر اعظم کو معائنہ کمیشن کی طرف سے سفارشات بھیج رہے ہیں کہ اس سسٹم کو اپ گریڈ کیا جائے اور اس آن لائن خریداری کے نظام کی تنصیب کی جائے اور اس کے تحت بل کی ادائیگی بھی آن لائن کی جائے گی۔انہوں نےکہا کہ یہ بگاڑ صرف بل کی ادائیگی تک محدود نہیں بلکہ اگر دوسرے محکموں کے لوگوں کا اگر کسی طرح سے اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو سے واسطہ پڑتا ہے تو انہیں بھی مشکلات پیش آتی ہیں جس کی وجہ سے یہ بگاڑ دوسرے محکموں تک پہنچ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان کی دیگر غلط سرگرمیاں دوسرے محکموں میں بھی سرائیت کر چکی ہیں اور یہ ایک مربوط نظام بن چکا ہے جس کو درست کرنے کے لیے ہم نے اپنی سفارشات تیار کی ہیں۔


موضوعات: