اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرنیوالوں کو سزائے موت یا عمر قید، انتہائی قدم اٹھا لیا گیا

datetime 12  جولائی  2020 |

پشاور(آن لائن)ممبر صوبائی اسمبلی حاجی فضل الٰہی نے صحابہ کرام و اہلبیت کی شان میں گستاخی کرنے والوں کیخلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے سمیت انہیں عمر قید یا سزائے موت دینے کیلئے قرارداد صوبائی اسمبلی میں جمع کرادی ۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حضرت صحابہ کرامرضی اللہ عنھم اور اہل بیت اطہار رضوان اللہ عنھم اجمعین جو دین کی اسات اور بنیاد ہیں ‘ نبی کریم ﷺ کی صحبت کی برکت سے اللہ کریم نے

اس مقدس جماعت کو دنیا میں جنت کی بشارتیں دیں اور اپنی رضا کا سرٹیفیکیٹ عطاء کیا انہیں پوری امت کیلئے مشعل راہ بنایا ۔ حضرات صحابہ کرامؓ اور اہل بیت اطہارؒ کی عزت وعظمت کے متعلق قرآن کریم میں سینکڑوں آیات موجود ہیں نبی کریمﷺ نے بے شمار احادیث میں انہیں بہترین ‘ قابل تقلید جماعت قرار دیا ۔ حضرات صحابہ کرام ؓ اور اہل بیت اطہارؓ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عزت و احترام کرنا اور ان سے محبت کا اظہار کرنا تمام مسلمانوں کیلئے لازم اور ضروری ہیں ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ طے ہے کہ ان حضرات کی توہین ناقابل معافی اور قابل تعزیر جرم ہے ان پر تنقید بالکل نا جائز اور حرام ہے ۔ انہوں نے قرارداد میں مطالبہ کیا ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ اور اہل بیت اطہار کی توہین روکنے کے حوالے سے پہلے سے موجود تعزیرات پاکستان کے دفعہ 298-A میں ترمیم کرتے ہوئے مقررہ سزا کو تین سال سے عمر قید یا سزائے موت میں تبدیل کریں اور سزا کو ناقابل ضمانت قرار دیا جائے ۔  حاجی فضل الٰہی نے صحابہ کرام و اہلبیت کی شان میں گستاخی کرنے والوں کیخلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے سمیت انہیں عمر قید یا سزائے موت دینے کیلئے قرارداد صوبائی اسمبلی میں جمع کرادی ۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حضرت صحابہ کرامرضی اللہ عنھم اور اہل بیت اطہار رضوان اللہ عنھم اجمعین جو دین کی اسات اور بنیاد ہیں ‘ نبی کریم ﷺ کی صحبت کی برکت سے اللہ کریم نے اس مقدس جماعت کو دنیا میں جنت کی بشارتیں دیں اور اپنی رضا کا سرٹیفیکیٹ عطاء کیا انہیں پوری امت کیلئے مشعل راہ بنایا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…