جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کرنیوالوں کو سزائے موت یا عمر قید، انتہائی قدم اٹھا لیا گیا

datetime 12  جولائی  2020 |

پشاور(آن لائن)ممبر صوبائی اسمبلی حاجی فضل الٰہی نے صحابہ کرام و اہلبیت کی شان میں گستاخی کرنے والوں کیخلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے سمیت انہیں عمر قید یا سزائے موت دینے کیلئے قرارداد صوبائی اسمبلی میں جمع کرادی ۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حضرت صحابہ کرامرضی اللہ عنھم اور اہل بیت اطہار رضوان اللہ عنھم اجمعین جو دین کی اسات اور بنیاد ہیں ‘ نبی کریم ﷺ کی صحبت کی برکت سے اللہ کریم نے

اس مقدس جماعت کو دنیا میں جنت کی بشارتیں دیں اور اپنی رضا کا سرٹیفیکیٹ عطاء کیا انہیں پوری امت کیلئے مشعل راہ بنایا ۔ حضرات صحابہ کرامؓ اور اہل بیت اطہارؒ کی عزت وعظمت کے متعلق قرآن کریم میں سینکڑوں آیات موجود ہیں نبی کریمﷺ نے بے شمار احادیث میں انہیں بہترین ‘ قابل تقلید جماعت قرار دیا ۔ حضرات صحابہ کرام ؓ اور اہل بیت اطہارؓ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عزت و احترام کرنا اور ان سے محبت کا اظہار کرنا تمام مسلمانوں کیلئے لازم اور ضروری ہیں ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ طے ہے کہ ان حضرات کی توہین ناقابل معافی اور قابل تعزیر جرم ہے ان پر تنقید بالکل نا جائز اور حرام ہے ۔ انہوں نے قرارداد میں مطالبہ کیا ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ اور اہل بیت اطہار کی توہین روکنے کے حوالے سے پہلے سے موجود تعزیرات پاکستان کے دفعہ 298-A میں ترمیم کرتے ہوئے مقررہ سزا کو تین سال سے عمر قید یا سزائے موت میں تبدیل کریں اور سزا کو ناقابل ضمانت قرار دیا جائے ۔  حاجی فضل الٰہی نے صحابہ کرام و اہلبیت کی شان میں گستاخی کرنے والوں کیخلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے سمیت انہیں عمر قید یا سزائے موت دینے کیلئے قرارداد صوبائی اسمبلی میں جمع کرادی ۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حضرت صحابہ کرامرضی اللہ عنھم اور اہل بیت اطہار رضوان اللہ عنھم اجمعین جو دین کی اسات اور بنیاد ہیں ‘ نبی کریم ﷺ کی صحبت کی برکت سے اللہ کریم نے اس مقدس جماعت کو دنیا میں جنت کی بشارتیں دیں اور اپنی رضا کا سرٹیفیکیٹ عطاء کیا انہیں پوری امت کیلئے مشعل راہ بنایا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…