پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

داتا دربار حملے کے سہولت کار کو سزا سنا دی گئی

datetime 12  جولائی  2020 |

لاہو ر ( آن لائن ) داتا دربار حملے کے سہولت کار کو سزا سنا دی گئی۔تفصیلات کے مطابق لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے داتا دربار بم دھماکے کے سہولت کار محسن کو بارودی مواد رکھنے کے جرم میں سزا سنا دی ہے۔عدالت نے مجرم محسن کو دو دفعہ عمرقید اور ایک بار 14 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ انستداد دہشت گردی کی عدالت نے مجرم کی تمام جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔سرکاری وکیل نے

عدالت کو بتایا کہ مجرم نے داتا دربار حملے میں سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا۔۔28 نومبر2019ء  کو عدالت نے سانحہ داتا دربار لاہور کا فیصلہ سنایا، عدالت نے اپنے فیصلے میں مجرم محسن خان کو 22 بار سزائے موت اور ایک بار عمرقید اور 4لاکھ روپے کرجرمانہ عائد کردیا۔اسی طرح عدالت نے مجرم کو 40،40 ہزار روپے دیت 24 زخمیوں کو بھی ادا کرنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔واضح رہے سانحہ داتا دربار کا مرکزی مجرم محسن خان کو لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ محسن خان دہشتگردی کے واقعے میں سہولت کار تھا۔ محسن خان کا تعلق چارسدہ کے علاقے شب قدر سے ہے۔ سکیورٹی اداروں نے اس کے قبضے سے دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا تھا۔ اسی طرح سانحے کے خود کش حملہ آورکی شناخت بھی ہوگئی ہے۔ سی ٹی ڈی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور صادق اللہ مہمند افغانستان کا رہائشی تھا اور افغانی پاسپورٹ پر پاکستان میں داخل ہوا تھا ۔  داتا دربار حملے کے سہولت کار کو سزا سنا دی گئی۔تفصیلات کے مطابق لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے داتا دربار بم دھماکے کے سہولت کار محسن کو بارودی مواد رکھنے کے جرم میں سزا سنا دی ہے۔عدالت نے مجرم محسن کو دو دفعہ عمرقید اور ایک بار 14 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ انستداد دہشت گردی کی عدالت نے مجرم کی تمام جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…