3بار رکن پارلیمنٹ رہ چکا ،غیر منتخب ہونے کا لیبل لگانا مناسب نہیں آئین وزیراعظم کو 5مشیروں کی اجازت دیتا ہے،عبدالحفیظ شیخ کھل کر بول پڑے

  جمعرات‬‮ 9 جولائی‬‮ 2020  |  10:44

اسلام آباد(آن لائن ) مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو ملکی تاریخ کا بلند ترین قرضہ اور 20ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ورثے میں ملا۔ کورونا وائرس وبا سے 4ہزار ارب کا معیشت کو نقصان پہنچا، اس کے باوجود عوام کو 1200ارب روپے کا ریلیف پیکج دیا۔تین بار رکن پارلیمنٹ رہ چکا، غیر منتخب ہونے کا لیبل لگانا مناسب نہیں ہے۔  نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ ہوامیں باتیں نہیں کی جا سکتیں ہمیں سب سے پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ موجودہ حکومت کو


ورثے میں کیا ملاہے۔ جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو قرضے ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھے۔ کرنٹ اکائونٹ خسارہ 20ارب ڈالر تھا۔ گزشتہ حکومت کو شوق تھا کہ روپے کو مصنوعی طور پر مستحکم کرکے ڈالر کی قیمت کو نیچے رکھا جائے۔ اس خواہش کی تکمیل میں کثیرزرمبادلہ جھونک دیا گیا۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے صفر فی صد کی شرح سے برآمدات میں اضافہ کیا۔ ڈالر کو مصنوعی طریقے سے سستا رکھنے سے سب لوگ برآمدات کو چھوڑ کر ہر چیز درآمد کرنے میں لگ گئے۔ رواں سال 2900ارب روپے پچھلی حکومتوں کے لئے گئے قرضوں کی مد میں واپس کئے جا رہے ہیں۔ ایف بی آر کل 4ہزار ارب روپے کے قریب ٹیکس جمع کرتا ہے جس میں سے 25ooارب روپے صوبوں کو چلے جاتے ہیں بقیہ 15ooارب روپے میں سے 2900ارب کا قرضہ واپس کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس وبا آنے سے قبل ملکی تاریخ میں پہلی بار اپنے اخراجات میں واضح کمی کرکے خسارے کو کم کیا ہے۔حفیظ شیخ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ماضی کے قرضے واپس کر نے کے لئے مزید قرضے لئے۔ تاریخ میں پہلی بار سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ایک کروڑ 60لاکھ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی گئی۔ کورونا وائرس کے عالمی معیشتوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں جس سے بیروزگاری اور غربت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس وبا سے ہماری برآمدات کو بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔انہی اثرات پر قابو پانے کے لئے حکومت نے ایک ہزار 240ارب روپے کا ریلیف پیکج دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ چند ماہ کے دوران بجلی کے تمام بلز موخر کر دئیے ہیں جبکہ چھوٹے کاروباروں کے بجلی کے بل حکومت نے ادا کیے ہیں۔ کاروباری طبقے کو مزید مالی مراعات دی جارہی ہیں۔ شرح سود 13.25فیصد سے کم کر 7فیصد کر دی گئی۔ حکومت نے 280ارب روپے کی گندم کسانوں سے خریدی تاکہ وہ ان پیسوں سے اپنی ضروریات پوری کریں۔حفیظ شیخ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کا بڑا ٹیکس ہدف رکھنے کا مقصد مزید ٹیکس لینے سے بچنا تھا تاکہ اپنے لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔ موجودہ حکومت نے ٹیکس نیٹ میں 7لاکھ افراد کا اضافہ کیاہے۔ کورونا وائرس سے قبل جولائی 2019سے فروری 2020کے دوران ٹیکس وصولیوں کی شرح 17فیصد تھی۔ اگر اسی رفتار سے آگے بڑھتے تو ہمارا نظر ثانی شدہ ہدف 4800ارب روپے حاصل ہو سکتاتھا۔انہوں نے کہا کہ پہلا ہدف عوام کو کورونا کے معاشی اثرات سے بچانا ہے۔ معیشت ترقی کرے گی تو موجودہ سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرلیں گے۔ برآمد کنندگان کے تمام ٹیکس ختم کر دیئے ہیں۔ اداروں کے سربراہوں کی کم سے کم تبدیلیاں ہونی چاہییں لیکن ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ کسی قابل افسر کو چئیرمین ایف بی آر تعینات کیا جائے۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں سب سے زیادہ لوگوں کو روز گار ملتا ہے اس شعبے کو ٹیکس میں خصوصی ریلیف دیا گیا ہے۔ ماضی میں تین بار رکن پارلیمنٹ رہ چکا ہوں ۔ آئین وزیراعظم کو پانچ مشیروں کی اجازت دیتا ہے۔


موضوعات: