سہیل وڑائچ کو اپنے خواب میں وزیراعظم عمران خان کا ”متبادل“ مل گیا سینئر تجزیہ کار نےخواب میں کس کس شخصیت کو وزیراعظم بنتے دیکھا؟جانئے

  منگل‬‮ 7 جولائی‬‮ 2020  |  22:45

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )مائنس ون، مائنس ٹو اور مائنس تھری جیسی آوازوں نے بےکلی پیدا کر رکھی تھی، بستر پر لیٹے ہوئے پہلو بدل رہا تھا، پراگندہ خیالی نے گھیر رکھا تھا، اسی صورتحال میں پتا نہیں کب نیند آ گئی۔۔۔۔سینئر کالم نگار سہیل وڑائچ روزنامہ جنگ میں شائع اپنے کالم ’’متبادل مل گیا ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔ صبح اُٹھا تو رات دیکھا جانے والا خواب پوری طرح یاد تھا۔ خواب میں دیکھتا کیا ہوں کہروحانیت کے ہالے میں چند نورانی صورت بزرگ بیٹھے پاکستان کے نئے متبادل کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں، کن رس ہونے


کے سبب فوراً باتیں سننے کی کوشش شروع کر دی۔خاکی لباس میں ملبوس بزرگ نے تجویز پیش کی کہ اُن کا بھتیجا سب سے اچھا ہے۔ اس سفید ریش تجربہ کار نے کہا کہ کیا جرنیل، کیا جج اور کیا سیاستدان، سو افراد نے اُن کی کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے سو دنوں کی کارکردگی کو باقاعدہ اپنے دستخطوں کیساتھ سراہا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ پوری ملّتِ پاکستان کے متفقہ امیدوار ہیں، خانِ اعظم کا بھی اُن پر مکمل اعتماد ہے۔اب محفل کی سب نظریں سبز پوش بزرگ پر تھیں وہ گویا ہوئے کہ بہاء الدین زکریا اور شاہ رکن عالم کی گدی کے وارث کو اقتدار دینے کا وقت آ گیا ہے۔ وہ معاملہ فہم ہے، منجھا ہوا سیاست کا کھلاڑی ہے۔ کرپشن کا ایک بھی داغ اس کی سفید چادر پر نہیں ہے۔ حب الوطنی اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر اس نے وزارتِ خارجہ سے استعفیٰ دے کر اپنا نام محبِ وطن سیاستدانوں میں لکھوا لیا ہے۔ اب بھی وہ اپنی وزارت کو اس احسن طریقے سے چلا رہا ہے کہ سب اہلِ اقتدار اُن سے خوش ہیںسرخ اجرک پہنے پیچھے بیٹھے بزرگ نے کہا، سندھی کو نہ بھول جانا وہ ذات کا سومرو ہے لیکن کھلا ڈلا ہے، دوستوں کا دوست اور پیپلز پارٹی کا ڈٹ کر مخالف ہے۔ اجرک والے بزرگ نے کہا کہ اسے پی ٹی آئی میں لاتے وقت یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ یا تو اسے اسپیکر یا پھر صدر ِپاکستان بنایا جائے گا مگر جب حکومت بن گئی تو سب وعدے بھول گئے۔سومرو پہلے بھی کئی عہدوں پر رہ چکا ہے، ہر بار وہ طاقتوروں کے اعتماد پر پورا اُترا ہے،اس بار اسے اقتدار دلائیں، وہ پورا زور لگائے گا اور سیاسی منظر نامہ بدل دے گا۔کمبل پوش نے پھر مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ متبادل ایسا ہونا چاہئے جس کی نہ پیپلز پارٹی مخالف ہو اور نہ (ن) لیگ۔ پیپلز پارٹی سندھ سے تعلق رکھنے والے سومرو کو متبادل بنانے کی شدید مخالفت کرے گی اسی طرح (ن) لیگ کسی بھی پنجابی کو متبادل بنانے کی مخالفت کرے گی اور سومرو کے معاملے میں تو پیر پگاڑا بھیکھل کر سامنے آئیں گے اور مخالفت کر کے اس اسکیم کو ناکام بنائیں گے۔اب سب نظریں تخت نشین سیاہ پوش پر تھیں کہ وہ کیا فیصلہ سناتے ہیں۔ سیاہ پوش نے گلا صاف کرتے ہوئے کہا کہ متبادل ایسا ہو جو نہ منتقم ہو اور نہ لڑاکا۔ تجربہ کار ہو ماضی میں انتظامیہ کو چلانے کا تجربہ رکھتا ہو۔ متبادل کا تعلق نہ حکومت کی اتحادی پارٹی سے ہو اور نہ ہی اپوزیشن سے بلکہ پی ٹی آئی کے اندر سے ہو کیونکہاس سے مینڈیٹ کا فوکس بدل جائے گا۔سب بزرگ منہ کھولے حیرت سے سیاہ پوش کی طرف دیکھ رہے تھے سسپنس کو توڑتے ہوئے دخل انداز کمبل پوش نے کہا آپ کی سب باتیں درست مگر ان سب خوبیوں والا ہے کون؟ تینوں بڑے متبادل تو مسترد کئے جا چکے اب چوتھا کون ہے؟سیاہ پوش نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں کو کھول کر سب حاضرین محفل کی طرف دیکھا۔ جھرجھری لی اور آسمان کی طرف دیکھا۔سب منتظر تھے۔ سیاہ پوش نے کہا کہ مجھے تو متبادل خیبر پختونخوا سے نظر آتا ہے وہ اسمارٹ موجودہ سے بھی کہیں زیادہ ہے، وزیر رہا ہے۔ وزیراعلیٰ رہا ہے، ضلع ناظم بھی رہ چکا ہے۔ اتحادی حکومت چلا چکا ہے۔ سیاست کے دائو پیچ جانتا ہے۔ پیپلز پارٹی میں رہا ہے، اس لئے انہیں بھی پختونخوا سے متبادل لائے جانے پر اتفاق ہو گا۔ ن لیگ کا بھی براہِ راست اس سے کوئی تصادم نہیں۔ مجھے تو یہ متبادل بہتر لگتا ہے۔ خاکی پوش بابا نے فوراً سر ہلایا اور کہا وہ دھیما ہے، کام اچھا چلا لے گا۔کمبل پوش نے پھر دخل اندازی کرتے ہوئے کہا یہ انتظام اگلے الیکشن تک ہے، اس کے بعد تو اصلی منتخب آنا چاہئے۔ سیاہ پوش اور خاکی پوش دونوں نے اقرار میں سر ہلایا۔


موضوعات: