بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

میٹرو پولیٹن راولپنڈی میں بھاری مشینری کی خریداری کی مد میں  5کروڑ کی خورد برد کا انکشاف، ریکارڈ غائب کر دیئے گئے

datetime 2  جولائی  2020 |

راولپنڈی (آن لائن)میٹرو پولیٹن کارپوریشن راولپنڈی میںتجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن کے لئے بھاری مشینری کی خریداری کی مد میں 5کروڑ روپے کی مبینہ خورد برد کا انکشاف ہوا ہے جس کے تحت گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی میں مختص کئے گئے 5 کروڑ روپے ریکارڈ سے غائب ہو گئے ٹینڈر کے لئے تاریخ مقرر ہونے کے باوجود نہ تو تاحال ٹینڈر جاری ہو سکے اور نہ ہی

مشینری خریدی گئی وسائل اور مشینری کی عدم دستیابی کے باعث شہر بھر میں تجاوزات و تعمیرات کے خلاف کاروائی مکمل طور پر سرد خانے کی نذر ہو گئی ذرائع کے مطابق میونسپل کارپوریشن کے سابق چیف افسر شفقت رضا کے دور میں گزشتہ سال کے آغاز پرنئے ایکسیویٹرزسمیت دیگر مشینری اورانسداد تجاوزات کے ٹرکوں کی خریداری کے لئے5کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی تھی نئی مشینری کی خریداری کے لئے گزشتہ سال ہی فروری کے وسط میں ٹینڈرز کھولے جا نے تھے اس طرح مارچ کے پہلے ہفتے تک مشینری کی خریداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد مارچ کے وسط سے انسداد تجاوزات آپریشن کے تحت پختہ و مستقل تجاوزات اورغیر قانونی تعمیرات کے خلاف کاروائی ہونا تھی لیکن 1سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود نہ تو مشینری کی خریداری ہو سکی نہ ہی تجاوزات کے خلاف باضابطہ کاروائی کا آغاز ہو سکااس حوالے سے میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے ذرائع نے تصدیق کی کہ 5کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی تھی لیکن بعد ازاں وہ رقم کدھر گئی اور اس مقصد کے لئے استعمال کی گئی اس کا کسی کو علم نہیں کیونکہ بظاہر ریکارڈ پر ایسی کوئی چیز نہیں ہے تاہم اس حوالے سے میونسپل افسر( انفراسٹرکچر) رفاقت گوندل نے بتایا کہ کارپوریشن میں نہ تو کوئی 5کروڑ روپے کے فنڈز آئے اور نہ کوئی ٹینڈر ہوئے اگر کارپوریشن کے سابقہ سی او نے اس وقت اس حوالے سے کوئی اعدادو شمارجاری کئے تھے تو یہ ان کا معاملہ ہے مجھے بھی ایک ہی سیٹ پرکئی سال ہوچکے ہیں لیکن میرے علم میں نہیں البتہ ہم نے رواں سال کے آغاز پر ایکسیویٹر کی خریداری کے لئے ڈیڑھ کروڑ کا ٹینڈر جاری کیا لیکن کورونا کی وجہ سے ہنڈائی کمپنی ہی بند پڑی ہے شپنگ کا سلسلہ بھی تعطل کا شکار ہے جس سے4ماہ سے ہمیں ڈیلیوری نہیں ملی



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…