جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

کراچی کے ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی صورتحال، انتہائی تشویشناک خبر سنا دی گئی

datetime 20  جون‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) شہر قائد کے سرکاری و نجی اسپتالوں میں کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے صرف 15 وینٹی لیٹرز خالی رہ گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق صوبائی محکمہ صحت سے حاصل کردہ اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو ایکسیڈنٹ اینڈ ٹراما سینٹر میں کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے مختص تمام 26 وینٹی لیٹرز اور جناح اسپتال کراچی میں تمام 24 وینٹی لیٹرز بھر گئے ہیں۔

ایس آئی یو ٹی میں تمام 20، او ایم آئی اسپتال میں تمام 6، لیاقت نیشنل اسپتال میں تمام 14، پٹیل اسپتال میں تمام 7، التمش اسپتال میں تمام 7، انڈس اسپتال میں تمام 15، ڈاکٹر ضیا الدین اسپتال کلفٹن میں تمام 4، ڈاکٹر ضیا الدین اسپتال نارتھ ناظم آباد میں تمام 13 اور آغا خان یونی ورسٹی اسپتال میں تمام 17 وینٹی لیٹرز مریضوں سے بھر گئے ہیں۔اس وقت سول اسپتال کراچی میں کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے مختص کیے گئے 12 میں سے 2 وینٹی لیٹرز، ڈاو یونی ورسٹی اسپتال اوجھا کیمپس میں مختص 13 میں سے 1 جب کہ لیاری جنرل اسپتال میں مختص 31 میں سے 12 وینٹی لیٹرز خالی ہیں۔اس کے علاوہ قومی ادارہ صحت برائے اطفال میں بھی 4 وینٹی لیٹر خالی ہیں لیکن وہ بچوں کے وینٹی لیٹر ہیں، بچوں کو اس مرض میں وینٹی لیٹر پر ڈالنے کی تاحال ضرورت نہیں پڑی، نہ ان پر بڑوں کو ڈالا جا سکتا ہے۔خیال رہے کہ ڈھائی کروڑ آبادی والے شہر میں صرف 15 وینٹی لیٹرز کا خالی رہ جانا تشویش ناک ہے جو تیزی سے بڑھتے ہوئے مریضوں کے پیش نظر بہت جلد بھر جائیں گے جس کے بعد اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کے حصول کے لیے افراتفری کی صورت حال سامنے آنے کا خدشہ ہے۔واضح رہے کہ کراچی میں سرکاری و نجی سطح پر کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے 216 وینٹی لیٹرز مختص کیے گئے ہیں جن میں سے بچوں کے 4 وینٹی لیٹر ہٹا کر 212 وینٹی لیٹرز میں سے 197 وینٹی لیٹرز مریضوں سے بھر چکے ہیں جب کہ صرف 15 وینٹی لیٹرز خالی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…