جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

کورونا کی چند ہزار والی دوائی لاکھوں میں، آکسیجن سلنڈر کی ضرورت پڑی تو قیمت کئی گنا بڑھا دی، تشویشناک صورتحال میں بھی بے حسی کی انتہا

datetime 19  جون‬‮  2020 |

پشاور (آن لائن)کرونا کے مریضوں کے لئے آکسیجن گیس کے سلنڈرو ں کی قیمتوں میں 4گناہ اضافہ کردیا گیا ہے کرونا کے تشویش ناک مریضوں کی تعداد بڑھنے سے شہر میں آکسیجن سلنڈر کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے گھروں کے اندر سینکڑوں افراد گیس سلنڈر کا استعمال کرنے پرمجبورہیں۔ صوبائی دارلحکومت پشاور سمیت صوبے بھر میں کرونا کے مریضوں کے بڑھتی ہو ئی صورتحال کے پیش نظر

خاص طور پر تشویش ناک مریضوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ سامناآ رہا ہے جس کے باعث پشاور کے سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتالوں میں آکسیجن کا استعمال کرنے والے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ جس کے باعث فل سلنڈر ائیر پریشر کی قیمت 2000کی قیمت 1500روپے سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ کرونا سے قبل سلنڈر کی قیمت 200سے 230روپے تھی موجودہ صورتحال میں اس سائز کے آکسیجن سلنڈر کی قیمت میں چار گنا تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سلنڈر کی عدم دستیابی کے باعث لوگ منہ مانگی قیمت پر سلنڈر خریدنے کے لئے تیار ہیں مگر پھر بھی دستیاب نہیں پشاور میں آکسیجن گیس سلنڈر کے کاروبار کرنے والے تاجروں کے وارے نیارے ہو گئے ہیں اور کرونا وائرس سے مجبور شہریوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاناشروع کردیا ہے۔ دکانوں پر براہ راست سلنڈر خریدنے والوں کی تعداد میں اس لئے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ مریضوں کی بڑی تعداد گھروں پر آئسولیٹ ہے۔ گھروں میں آکسیجن سلنڈر کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ذرائع کے مطابق پشاور میں 3بڑی کمپنیاں آکسیجن فراہم کر رہی ہیں جبکہ پنجاب، لاہور، سے آکسیجن کمپنیاں سلنڈر فراہم کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ کورونا سے تشویشنا ک صورتحال میں بھی منافع خور اور ذخیرہ اندوز اپنا کوئی وار خالی نہیں جانے دے رہے، چند ہزار والی دوائی لاکھوں میں فروخت ہو رہی ہے، اب آکسیجن کی ضرورت پڑی تو آکسیجن سلنڈر کی قیمت چار گنا بڑھا دی گئی، بے حسی کی انتہا ہو چکی ہے۔ احساس نام کی چیز ہی ختم ہو گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…