بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

وفاقی بیورو کریسی میں جنگ شدت اختیارکر گئی،2 واضح متحارب دھڑوں میں تقسیم،قیادت کون سی اہم شخصیات کر رہی ہیں، فواد حسن فواد بھی میدان میں آ گئے

datetime 16  جون‬‮  2020 |

ٰٰاسلام آباد (آن لائن) وفاق حکومت کے ساتھ کام کرنے والی بیوروکریسی دو واضح متحارب دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک کی قیادت وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن شہزاد ارباب اور دوسرے گروپ کے سرخیل وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ہیں۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ساتھ پرنسپل سیکرٹری کے طور پر کام کرنے والے فواد حسن فواد نے اپنا سارا وزن شہزاد ارباب گروپ کے پلڑے میں ڈال دیا۔

شہزاد ارباب اور اعظم خان کے درمیان کئی ہفتوں سے بول چال بھی بند ہوچکی ہے۔ اہم عہدوں پر تعینات آٹھ بیوروکریٹس نے اعظم خان کی من پسند سمریاں بنانے سے انکار کر کے پہلے ہی اپنی حمایت شہزاد ارباب گروپ کے پلڑے میں ڈال دی ہے۔ ماضی قریب میں اعظم خان اور شہزاد ارباب کے درمیان بہترین تعلق رہ چکے ہیں اور دونوں کے خلاف نیب کا مالم جبہ کیس انہیں ایک پیج پر کئے ہوئے تھا لیکن شوگر سکینڈل میں اعظم خان نے جہانگیر ترین کے ساتھ ساتھ شہزاد ارباب کو بھی وزیراعظم آفس سے فارغ کروا دیا تھا مگر شہزاد ارباب چند روز بعد بے گناہی ثابت کرکے وزیراعظم کے مزید قریب ہوگئے تھے اور اعظم خان سے اتنا ہی دوری اختیار کرلی۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اعجاز منیرجو کہ فواد حسن فواد کے ہونہار شاگردوں میں سے ایک ہیں اس وقت شہزاد ارباب کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں اس لئے سیکرٹری اعجاز منیر ایک طرف شہزاد ارباب سے مشاورت کرتے ہیں تو دوسری طرف فواد حسن فواد سے راہنمائی لیتے ہیں۔ اعجاز منیر مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں سیکرٹری صحت اور سیکرٹری سروسز بھی رہ چکے ہیں۔ مزید براں اس گروپ میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے ساتھ ہوم سیکرٹری کے طور پر کام کرنے والے سیکرٹری داخلہ اعظم سلیمان بھی شامل ہیں اور اس گروپ نے مزید طاقت اس وقت پکڑی جب سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اعجازمنیر نے

میاں شہباز شریف کے پسندیدہ بیوروکریٹ ڈاکٹر ارشد کو ایڈیشنل سیکرٹری فنانس کے عہدے پر لا بٹھایاہے۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اعجاز منیر وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کا عہدہ حاصل کرنے کے لئے بڑی مہارت سے رکاوٹیں دور کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو ایک طرف پی ٹی آئی کے بااثر اور طاقتور رہنماؤں کی ناراضگی کا سامنا ہے جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سالہا سال تک کام کرنے والے بیوروکریٹس نے اب ان کا مکمل محاصرہ کیا ہوا ہے

اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے لئے آگے کنواں اور پیچھے کھائی والی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ بیوروکریسی کی موجودہ صورتحال کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کے خلاف اصل اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نہیں بلکہ فواد حسن فواد کا شاطر دماغ اور اعظم خان کی اختیارات حاصل کرنے کی بھوک ہے۔ اعظم خان میڈیا میں موجود اپنے دوستوں کے ذریعے اگرچہ یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ بیوروکریسی پر اب ان کی پہلے سے زیادہ گرفت ہے حالانکہ شہزاد ارباب کی ناراضگی اور آٹھ بیوروکریٹس کی اعظم خان کے ساتھ کام نہ کرنے کی خواہش نے ان کی بیوروکریسی پر گرفت کو واضح طور پر ڈھیلا کر دیا ہے اور ان کی گرفت اتنی ہی ہے جتنی کہ مٹھی میں ریت پر ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…