جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

وفاقی بیورو کریسی میں جنگ شدت اختیارکر گئی،2 واضح متحارب دھڑوں میں تقسیم،قیادت کون سی اہم شخصیات کر رہی ہیں، فواد حسن فواد بھی میدان میں آ گئے

datetime 16  جون‬‮  2020 |

ٰٰاسلام آباد (آن لائن) وفاق حکومت کے ساتھ کام کرنے والی بیوروکریسی دو واضح متحارب دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک کی قیادت وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن شہزاد ارباب اور دوسرے گروپ کے سرخیل وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ہیں۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ساتھ پرنسپل سیکرٹری کے طور پر کام کرنے والے فواد حسن فواد نے اپنا سارا وزن شہزاد ارباب گروپ کے پلڑے میں ڈال دیا۔

شہزاد ارباب اور اعظم خان کے درمیان کئی ہفتوں سے بول چال بھی بند ہوچکی ہے۔ اہم عہدوں پر تعینات آٹھ بیوروکریٹس نے اعظم خان کی من پسند سمریاں بنانے سے انکار کر کے پہلے ہی اپنی حمایت شہزاد ارباب گروپ کے پلڑے میں ڈال دی ہے۔ ماضی قریب میں اعظم خان اور شہزاد ارباب کے درمیان بہترین تعلق رہ چکے ہیں اور دونوں کے خلاف نیب کا مالم جبہ کیس انہیں ایک پیج پر کئے ہوئے تھا لیکن شوگر سکینڈل میں اعظم خان نے جہانگیر ترین کے ساتھ ساتھ شہزاد ارباب کو بھی وزیراعظم آفس سے فارغ کروا دیا تھا مگر شہزاد ارباب چند روز بعد بے گناہی ثابت کرکے وزیراعظم کے مزید قریب ہوگئے تھے اور اعظم خان سے اتنا ہی دوری اختیار کرلی۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اعجاز منیرجو کہ فواد حسن فواد کے ہونہار شاگردوں میں سے ایک ہیں اس وقت شہزاد ارباب کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں اس لئے سیکرٹری اعجاز منیر ایک طرف شہزاد ارباب سے مشاورت کرتے ہیں تو دوسری طرف فواد حسن فواد سے راہنمائی لیتے ہیں۔ اعجاز منیر مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں سیکرٹری صحت اور سیکرٹری سروسز بھی رہ چکے ہیں۔ مزید براں اس گروپ میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے ساتھ ہوم سیکرٹری کے طور پر کام کرنے والے سیکرٹری داخلہ اعظم سلیمان بھی شامل ہیں اور اس گروپ نے مزید طاقت اس وقت پکڑی جب سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اعجازمنیر نے

میاں شہباز شریف کے پسندیدہ بیوروکریٹ ڈاکٹر ارشد کو ایڈیشنل سیکرٹری فنانس کے عہدے پر لا بٹھایاہے۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اعجاز منیر وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کا عہدہ حاصل کرنے کے لئے بڑی مہارت سے رکاوٹیں دور کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو ایک طرف پی ٹی آئی کے بااثر اور طاقتور رہنماؤں کی ناراضگی کا سامنا ہے جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سالہا سال تک کام کرنے والے بیوروکریٹس نے اب ان کا مکمل محاصرہ کیا ہوا ہے

اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے لئے آگے کنواں اور پیچھے کھائی والی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ بیوروکریسی کی موجودہ صورتحال کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کے خلاف اصل اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نہیں بلکہ فواد حسن فواد کا شاطر دماغ اور اعظم خان کی اختیارات حاصل کرنے کی بھوک ہے۔ اعظم خان میڈیا میں موجود اپنے دوستوں کے ذریعے اگرچہ یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ بیوروکریسی پر اب ان کی پہلے سے زیادہ گرفت ہے حالانکہ شہزاد ارباب کی ناراضگی اور آٹھ بیوروکریٹس کی اعظم خان کے ساتھ کام نہ کرنے کی خواہش نے ان کی بیوروکریسی پر گرفت کو واضح طور پر ڈھیلا کر دیا ہے اور ان کی گرفت اتنی ہی ہے جتنی کہ مٹھی میں ریت پر ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…