جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

برگر کھانے سے 3سگے بہن بھائی انتقال کرگئے گھر میں کہرام مچ گیا،ہر آنکھ اشکبار

datetime 16  جون‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے علاقے کھارادر میں مبینہ طور پر مضرصحت کھانا کھانے سے 3 کمسن بہن بھائی جان بحق ہوگئے۔ورثا نے بغیر کسی قانونی کارروائی کے نمازجنازہ ادا کرکے میوہ شاہ قبرستان میں تدفین کردی ۔ ایڈیشنل آئی جی نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی سائوتھ سے رپورٹ طلب کرلی۔ اتوار اور پیر کی درمیانی رات کھارادر کی فیملی نے

برنس روڈ سے خریدے گئے برگر کھائے جس سے گھرمیں موجود تین بچوں کو قے اور دست لگ گئے۔ بچوں طبیعت بگڑی تو انھیں فوری طور پر کھارادرکے جنرل اسپتال منتقل کیا گیا۔ڈاکٹرز کے مطابق جب بچوں کواسپتال لایاگیا توان میں سے دو بچوں کا رنگ زرد پڑچکا تھا اور دونوں طبی امداد ملنے کے دوران ہی چل بسے جبکہ ایک بچے کو وینٹی لیٹرپرمنتقل کیا گیا مگروہ بھی جانبرنہ ہوسکا۔بچوں کے ورثا پوسٹ مارٹم کے بغیر ہی میتیں گھر لے گئے اورقانونی کارروائی کے بغیرمیوہ شاہ قبرستان میں تدفین کردی۔ پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے تینوں بچے سگے بہن بھائی ہیں، بچوں میں11سالہ عائزہ،8سالہ سعد اور2سالہ صفا شامل ہیں۔بچوں کے لواحقین نے پولیس کو ابتدائی بیان دیا ہے کہ برنس روڈ سے بچوں کو گزشتہ رات برگر کھلایا تھا، اس کے علاوہ گھر پر بھی کھانا پکایا گیا تھا۔پولیس کے مطابق بچوں کی موت کے حوالے سے لواحقین کا تفصیلی بیان ہونا باقی ہے، گھر میں کیڑے مار دوا کا اسپرے ہونے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔بچوں  کے دادا نے پولیس کو ابتدائی بیان قلمبند کرا دیا جس میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کے والد کسی کام کے سلسلے میں  کوئٹہ گئے ہوئے تھے اور واقعے کی اطلاع ملنے پر خصوصی پرواز سے کراچی لوٹے تھے۔ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے اور ڈی آئی جی ساتھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی نے کہا ہے کہ

واقعہ میں جاں بحق بچوں کا پوسٹ مارٹم ہونا چاہیے تھا تاہم بچوں کے لواحقین نے پوسٹ مارٹم کروانے سے منع کیا ہے۔متاثرہ فیملی کی جانب سے قانونی کارروائی سے انکار کے بعد پولیس نے اندراج مقدمہ کیلئے مدعی کوتلاش کرنا شروع کردیا ہے۔ایس پی سٹی کے مطابق  اصولی طور پر ضلعی انتظامیہ یا سندھ فوڈ اتھارٹی کی مدعیت میں مقدمہ درج ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے ایس پی سٹی ڈاکٹر سمیر چنا نے میڈیا کو بتایا کہ ہلاکت کا مقدمہ درج کروانے کے لیے تاحال لواحقین نے رابطہ نہیں کیا۔انہون نے کہاکہ اصولی طور پر ڈسٹرکٹ انتظامیہ یا سندھ فوڈ اتھارٹی کی مدعیت میں مقدمہ درج ہونا چاہیے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…