جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

نئے انتخابات کی تیاریوں کا آغاز، الیکشن کمیشن نے نادرا سے اہم ریکارڈ طلب کر لیا

datetime 16  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن ) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نادا سے 35لاکھ کے قریب نئے شناختی کارڈ ہولڈرز کا ڈیٹا طلب کر لیا ہے ،شناختی کارڈ ہولڈرز کا ڈیٹا ملنے کے بعد انہیں انتخابی فہرستوں میں شامل کیا جائے گا،کمیشن نے انتخابی فہرستوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کے مابین 1کروڑ 25لاکھ سے زائد فرق کو ختم کرنے کیلئے بھی اقدامات شروع کردئیے ہیں ۔الیکشن کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر کی ہدایات کی روشنی میں

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے تمام ایسے مرد اور خواتین کے اعداد وشمار اور تفصیلات طلب کرلی گئی ہیں جو اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کے ہیں اور شناختی کارڈ حاصل کر چکے ہیں مگر بطور رائے دہندگان / ووٹر ان کے نام انتخابی فہرستوں میں ابھی تک درج نہیں ہیں. اس سلسلہ میں الیکشن کمیشن کے شعبہ انتخابی فہرست کی جانب سے جاری مراسلہ میں نادرا کو جلد از جلد تمام مطلوبہ تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ ایسے تمام افراد کے نام الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 25 کے مطابق انتخابی فہرستوں میں درج کیے جاسکیں. ایک محتاط اندازے کے مطابق ایسے افراد کی تعداد 30 سے 35 لاکھ کے درمیان ہے.واضح رہے چیف الیکشن کمشنر نے گزشتہ دنوں انتخابی فہرستوں میں درج مرد اور خواتین رائے دہندگان کے درمیان موجود بڑے فرق کو ختم کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر جامعہ حکمت عملی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی تھیں اوراس سلسلے میں بھی ٹھوس اقدامات شروع کر دئیے گئے ہیں ۔ شناختی کارڈ ہولڈرز کا ڈیٹا ملنے کے بعد انہیں انتخابی فہرستوں میں شامل کیا جائے گا،کمیشن نے انتخابی فہرستوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کے مابین 1کروڑ 25لاکھ سے زائد فرق کو ختم کرنے کیلئے بھی اقدامات شروع کردئیے ہیں ۔الیکشن کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر کی ہدایات کی روشنی میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے تمام ایسے مرد اور خواتین کے اعداد وشمار اور تفصیلات طلب کرلی گئی ہیں جو اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کے ہیں اور شناختی کارڈ حاصل کر چکے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…