جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

عوام کورونا ٹیسٹ کی رپورٹس کیلئے دربدر 24 گھنٹوں میں ملنے والی رپورٹ 96 گھنٹوں بعد ملنے لگی

datetime 14  جون‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)حکومت سندھ کی جانب سے کورونا وائرس کی تشخیصی صلاحیت بڑھانے کے دعوے تو کیے جارہے ہیں لیکن کراچی کے عوام کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹس کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ شہر قائدکے عوام لمبی لائنوں اور طویل انتظار کے بعد آخر کارٹیسٹ کرانے میں تو کامیاب ہو رہے ہیں لیکن 24 گھنٹوں میں ملنے والی رپورٹ 96 گھنٹوں بعد مل رہی ہے۔

جبکہ ضلعی سطح پرلئے گئے ٹیسٹ کے نمونے بھی گم ہونے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔اس سلسلے میں محکمہ صحت کا موقف جاننے کیلئے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو سے مسلسل رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی ان کے موبائل پر ایس ایم ایس جبکہ واٹس ایپ پر بھی میسیج کیا گیا تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔کراچی میں سرکاری سطح پر کرائے گئے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹس چار دن گزرنے کے بعد مل رہی ہیں جس نے شہریوں کو پریشان کر دیا ہے اورہزاروں شہری اپنی رپورٹس کے انتظار میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے صرف استعداد بڑھانے کے دعوے کیے گئے لیکن اسپتالوں اور صحت کے ضلعی دفاتر میں خاطر خواہ پی سی آر مشینیں لگائی گئیں نہ عملہ فراہم کیا گیا بلکہ اسی عملے اور مشینوں کیسا تھ ٹیسٹ میں اضافے کے احکامات دیئے گئے۔جس کے نتیجے میں رپورٹس میں تاخیر ہو رہی ہے۔ جن اسپتالوں میں ٹیسٹ کیے جارہے ہیں ان پر بوجھ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ چند دن قبل انڈس اسپتال نے ٹیسٹ بند کر دیئے تھے، دو دن قبل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس ضلع جنوبی نے بھی کورونا ٹیسٹ بند کیے گئے جس کے بعد گزشتہ روز سول اسپتال کراچی نے بھی تین دنوں کے لئے ٹیسٹنگ سروس بند کرنے کا اعلان کر دیا۔سول اسپتال کراچی، ڈی ایچ اوآفس، جناح اسپتال کراچی، ڈاو یونیورسٹی اوجھا اسپتال، جناح اسپتال کراچی اور انڈس اسپتال سمیت دیگر سرکاری سہولتوں میں کورونا کی رپورٹس وقت پر فراہم نہیں کی جارہیں اس پر اکثر شہریوں کے سیمپل گم ہونے کی بھی شکایات سامنے آرہی ہیں۔اس کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ بروقت رپورٹس نہ ملنے پر شہری احتیاط نہیں برتتیجس سے وہ وائرس دوسروں میں منتقلی کا باعث بن رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…