اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

سلیکٹیڈ وزیراعظم نے کورونا کو نزلہ اور زکام قرار دے کر خوفناک حالات پیدا کر کے عوام کو موت کے منہ میں دھکیل دیا ، پیپلز پارٹی نے کرونا کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کو خطرے کی علامت قرار دیدیا، حکومتی فیصلوں کو مسترد کرنے کا دھماکہ خیز فیصلہ

datetime 5  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی نے وفاقی حکومت کے فیصلوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیصلوں کو مسترد کردیا۔ ایک بیان نفیسہ شاہ نے کہاکہ ملک میں کورونا کیسز کا تقریبن 90 ہزار تک پہنچ جانا انتہائی تشویشناک اور خطرے کی علامت ہے، سلیکٹیڈ حکومت پاکستان کو کورونا کا مرکز بنانے پر تلی ہوئی ہے،

کورونا سے فرنٹ لائن پر لڑنے والا طبی عملے کی قیمتیں جانیں دن بہ دن ضائع ہو رہی ہیں۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہاکہ کیسز اور اموات کی تعداد میں اضافے کے ذمہ دار برائے راست سلیکٹیڈ وزیراعظم خود ہیں، سلیکٹیڈ وزیراعظم نے کورونا کو نزلہ اور زکام قرار دے کر خوفناک حالات پیدا کر کے عوام کو موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے، وزیراعظم کورونا کو زکام قرار دینے کے بیان پر عوام سے معافی مانگیں، ہوٹلز، شاپنگ مالز اور پبلک پارک کھول کر وفاقی حکومت نے عوام کو موت کے منہ میں دھکیل دیا، ذمہ داران ہوٹلز، شاپنگ مالز اور پبلک پارک کھولنے کے غیر سنجیدہ فیصلے پر عوام سے معافی مانگیں، حکومتی وزراء نے ایوان میں دعوی کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کورونا سے زیادہ متاثر نہیں ہوگا، پی ٹی آئی میں بیٹھے وہ لوگ اب منظرعام سے غائب کیوں ہیں؟ ۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہاکہ وہ لوگ کہاں گئے جو کہہ رہے تھے خدا کا شکر ہے پاکستان میں اٹلی اور امریکا جیسے حالات نہیں، کیسز میں خوفناک حد تک اضافے کے باوجود وفاقی حکومت کی کوئی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…