جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

پاکستان سٹیل ملز کی تباہی کا ذمہ دار کون؟کن حکمرانوں کے ذاتی دوست لے ڈوبے ؟ کس کس نے ہاتھ کتنا مال بنایا ؟ معروف صحافی تمام تفصیلات سامنے لے آئے

datetime 5  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تمام سیاسی حکومتوں نے پاکستان کےہر ایک ادارے کو اپنی خواہشات کے مطابق تباہ کیا ۔ تفصیلات کے مطابق سینئر تجزیہ کار و صحافی رئوف کلاسرا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 2006 میں پاکستان سٹیل ملز کی نجکار ی پر پاکستان سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے اس بیچنے سے روکا تھا ، سابق صدر پاکستان پرویز مشرف پاکستان اسٹیل ملز میں 9ارب روپے کا منافع چھوڑ کر گئے۔

اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کا دور آیا اور دھڑا دھڑ بھرتیاں کی گئیں، اس دور میں کرپشن کے بڑے بڑے کیسز بھی سامنے آئے جس کی تحقیقات پر ایف آئی اے کے 2 افسران کو اس وقت کے وزیرداخلہ رحمان ملک نے تبدیل کردیا تھا جس کی وجہ سے تمام کیسز کی انکوائری رک گئی تھی ۔ پی پی پی دور حکومت میں پاکستان سٹیل ملز 104 کھرب کے نقصان میں تک پہنچ گئی تھی ۔ پی پی پی کے بعد ن لیگ کا دورحکومت آیا ،اسحاق ڈار نے اسٹیل ملز کو بند کر دیا ہر بجٹ میں سٹیل کو پیروں پر کھڑا کرنے بجائے تمام ملازمین کی تنخواہوں میں فنڈز مختص کر دیئے جاتے ، اپنی اسٹیل ملز ہونے کی وجہ سے ملکی ادارے کو تباہی کے دہانے پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی گئی ۔ اب وزیراعظم عمران خان کا دور حکومت چل رہا اور اسٹیل ملز کی بحالی کی کوئی کوشش نظر نہیں آئے ، تحریک انصاف تنقید کی زد میں سب سے زیادہ اس لیے کیونکہ انہوں نے لوگوں کو یقین دلایا تھا کہ وہ حکومت میں آئیں گے تو سب سے پہلے اداروں کو مضبوط کیا جائے لیکن اب تو اسد عمر نے ادارے کے تمام ملازمین کو فارغ کرنے کا ہی اعلان کر دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز کی بحالی کیلئے حکومت نے ابھی تک کوئی کوشش نہیں کی ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسد عمر اگر کچھ نہیں کر سکتے تو وہ صرف اپنا وعدہ ہی پورا کر دیں کہ جو انہوں نے اسٹیل ملز ورکرز سے کیا تھا کہ کہ کچھ بھی ہو جائے وہ ان کیساتھ ہمیشہ کھڑے رہیں گے ۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…