پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کی ہدایت کے مطابق طیارے کے پہیے کھلے بغیر اور کسی ہنگامی انتظامات نہ ہوتے ہوئے ایمرجنسی لینڈنگ کیلئے رن وے کو ٹچ کیا تھا، چنگاریاں اٹھنے پر دوبارہ ٹیک آف کیا، انتہائی دھماکہ خیز انکشاف

  جمعہ‬‮ 22 مئی‬‮‬‮ 2020  |  22:32

کراچی (این این آئی) کراچی میں گر کر تباہ ہونے والے پی آئی اے کے طیارے کے پائلٹ نے تباہی سے 19 منٹ قبل کراچی ائیرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنے کی کوشش کی مگر ایمرجنسی لینڈنگ کے ضروری انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے طیارے کو ٹیک آف کرالیا۔ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق پائلٹ نے لاہور سے کراچی پہنچ کر لینڈنگ کیلئے اپروچ لینے کے دوران طیارے کے پہیے کھولنا چاہے مگر ناکام رہا جس پر پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو صورتحال سے آگاہ کیا۔  ذرائع کے مطابق رن وے تک پہنچنے کے دوران پائلٹ مسلسل پہیے کھولنے کی کوشش


کرتا رہا، دوپہر دو بجکر 20 منٹ پر طیارہ عین رن وے تک پہنچ گیا مگر ہنگامی لینڈنگ کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے کپتان نے طیارے کو واپس اڑا لیا۔ دوبارہ اڑان بھرتے ہی پائلٹ نے ایک چکر لگانے کیلئے طیارے کو الٹے ہاتھ کی طرف موڑا اور شاہ فیصل کالونی، ملیر اور نیشنل ہائی وے سے ہوتے ہوئے لینڈنگ کیلئے دوبارہ اپروچ لینے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق جہاز کے پہیے کھولنے کے لیے کپتان نے آخری حربے کے طور پر سسٹم کو پمپ کیا تو جہاز کے پہیے کھل گئے مگر اس وقت تک جہاز کا ایک انجن فیل ہوچکا تھا۔ پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو اس دوسری ہنگامی صورتحال سے بھی آگاہ کیا اور طیارے کو ہر ممکن مہارت سے ایئرپورٹ تک لے جانے کی کوشش کی مگر اس دوران جہاز کا دوسرا انجن فیل ہوا تو طیارہ خوفناک حادثے کا شکار ہوگیا ایک اور ذریعے کے مطابق دوپہر دو بج کر 20 منٹ پر پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کی ہدایت کے مطابق طیارے کے پہیے کھلے بغیر اور کسی ہنگامی انتظامات نہ ہوتے ہوئے ایمرجنسی لینڈنگ کیلئے رن وے کو ٹچ کیا تھا اور کافی چنگاریاں اٹھنے پر پائلٹ دوبارہ ٹیک آف کرگیا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎