جمعرات‬‮ ، 08 جنوری‬‮ 2026 

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریاستی اداروں کی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے کمرشل استعمال پر سوالات اٹھادیے،جن اداروں نے قانون پر عملدرآمد کرانا تھا وہی اس کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں، تحریری حکم نامہ جاری

datetime 17  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریاستی اداروں کی جانب سے ہاؤسنگ سوسائٹیز کے کمرشل استعمال پر سوالات اٹھادیے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کا 5 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کا ہائوسنگ سوسائٹیز بنانا مفادات کے ٹکراؤ کی کلاسیکل مثال ہے، جن اداروں نے قانون کی عمل داری کو یقینا بنانا تھا وہی اس کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ صاف نظر آرہا ہے سی ڈی اے بے بس ہے، ملک میں قانون پر عملداری کی یہ صورت حال ناقابل برداشت ہے، شہری ہاوسنگ سوسائٹیز کے ہاتھوں اپنے خون پسینے کی کمائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز مختلف ادارے بالواسطہ یا بلا واسطہ کمرشل بنیادوں پر چلا رہے ہیں، ریاستی اداروں،ڈیپارٹمنٹس کی اکثر ہاؤسنگ سوسائٹیز سی ڈی اے آرڈیننس 1960 کی خلاف ورزی میں شروع کی گئیں۔عدالت نے سی ڈی اے سے ریاستی اداروں،ڈیپارٹمنٹس کی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ اسلام آباد میں غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا؟، جو پراجیکٹس سی ڈی اے کی منظوری کے بغیر شروع یا مکمل کئے گئے ان کی رپورٹ پیش کی جائے، وجوہات بیان کی جائیں سی ڈی اے نے آج تک غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا ؟۔عدالت نے تحریری حکم نامہ میں کہا کہ سی ڈی اے وضاحت دے کہ کھوکھا والوں کے خلاف تو ایکشن لے لیا مراعات یافتہ طبقہ کے خلاف کیوں نہیں لیا؟ تشویش ناک امر یہ ہے کہ سی ڈی اے نے مختلف اداروں،ڈیپارٹمنٹس کو غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیز کے نام عوام کے ساتھ فراڈ کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے لیکن غیر مراعات یافتہ طبقے کے گھر گرانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں۔تحریری حکم نامہ میں کہا گیا کہ وفاقی دارالحکومت کے 14 سو مربع میل کے ایریا میں زرو و شور سے یہ غیرقانونی کام جاری ہے،

حکومت اور ریگولیٹر قانون کو نظر انداز کرکے کسی نہ کسی طرح سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں، یہ عدالت ایک کیس میں واضح کر چکی ہے کہ جو کچھ غیر قانونی ہورہا ہے سی ڈی اے کا بورڈ،چئیرمین،ممبران سب ذمہ دار ہیں، سی ڈی اے بے بس اور جو کچھ غیر قانونی ہورہا ہے اس پر وفاقی حکومت مطمئن بیٹھی ہے، پاکستان نیوی آئین کی کس شق کے تحت کمرشل ہاؤسنگ سوسائٹی بنا سکتی ہے وکیل مطمئن نہ کر سکے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان نیول فارمز سے قانون کی خلاف ورزی کرکے کمرشل طرز پر ہاؤسنگ سوسائٹیز چلانے اور نیول فارمز کے کمرشل استعمال کے حوالے سے جواب طلب کرلیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…