ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

ہائیکورٹ کا بڑا حکم، کورونا مریضوں کے نام اور پتہ ظاہر کرنے کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا گیا

datetime 12  مئی‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)سندھ ہائیکورٹ نے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے نام اور پتہ ظاہر کرنے کی درخواست مسترد کردی۔سندھ ہائیکورٹ میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے نام اور پتہ ظاہر کرنے کی درخواست پر جسٹس محمد علی مظہر نے سماعت کی، سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے درخواست گزار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کورونا مریضوں کی تفصیلات کی فراہمی کی درخواست مسترد کر دی گئی۔

سماعت کے دوران سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ افراد کے نام ظاہر نہیں کر رہی، آپ نام پبلک کرنے کے لیے آ گئے ہیں، یہ کس قسم کی درخواست دائر کی ہے؟ آپ کون ہیں کیوں نام ظاہر کیے جائیں؟ جسٹس محمد علی مظہر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ جو صحت یاب ہوچکے ہیں ان کے نام سامنے آنے پران کو اعتراض نہیں ہوگا ؟سماعت کے دوران درخواست گزار عمران شہزاد کی جانب سے جو کورونا وائرس سے صحت یاب ہوچکے انہیں دی جانے والی ادویات کی بھی تفصیلات دیئے جانے کی استدعا کی گئی۔جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے درخواست گزار سے سوال کیا کہ کیا کورونا وائرس کا علاج دریافت ہوگیا ؟درخواست گزار کا جواب میں کہنا تھا کہ علاج دریافت تو نہیں ہوا لیکن پتہ لگانا ہے کس دوا سے کورونا کے مریض ٹھیک ہو رہے ہیں۔جسٹس محمد علی مظہر کی جانب سے کہا گیا کہ ہر معاملے پر درخواست تھوڑی دائر کی جاسکتی ہے، درخواست مسترد کرنے کے لیے بہت مواد موجود ہے، جسٹس محمد علی مظہر کی جانب سے مزید سوالوں کے دوران درخواست گزار سے پوچھا گیا کہ 2019 میں ہونے والی اموات کی تفصیلات آپ کو کیوں بتائی جائیں؟ ۔اس پر درخواست گزار عمران شہزاد کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال اور اس سال کی اموات کا موازنہ کرنا ہے۔بعد ازاں عدالت کی جانب سے درخواست گزار کو غیر ضروری استدعا درخواست سے نکالنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا گیا کہ مفاد عامہ کے ایشو شامل کر لیتے ہیں تو درخواست سنی جاسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…