بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

’’ مراد علی شاہ بھی ایک سندھی ہیں دیکھیں سندھ کی بیٹی کیساتھ کیا سلوک ہورہا ہے‘‘ انصاف دینے میں مدد نہیں کرسکتے تو رکاوٹ بھی نہ بنیں،آپ ایسے قاتلوں کو حفاظت دے کر کیا ثابت کرناچاہتےہیں؟ام رباب نے وزیراعلیٰ سندھ سے کیا سوال کر دیا

datetime 11  مئی‬‮  2020 |

سکھر(این این آئی) سندھ کی بیٹی ام رباب کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے دو ایم پی ایز نے والد، دادا اور چچا کو قتل کیا، وزیراعلی سندھ نے اپنی پارٹی میں قاتل بٹھارکھے ہیں، وہ انصاف دلانے میں مدد نہیں کرسکتے تورکاوٹ بھی نہ بنیں۔پیر کوسندھ کی بیٹی ام رباب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سکھر پریس کلب ہمیشہ مظلوموں کاساتھ دیتے آیا ہے، کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں،

عدالتوں پریقین رکھتی ہوں۔ام رباب کا کہنا تھا کہ جنوری2018میں میرے والد،دادا،اورچچاکاقتل ہواتھا، میراگھرتباہ ہواہے،نہیں چاہتی کسی اورکاگھرتباہ ہو، پیپلزپارٹی کی قیادت ان قاتلوں کی سرپرستی کررہی ہے اور سندھ کی بیٹی انصاف کے لئے دہائیاں دے رہی ہے۔انھوں نے بتایا کہ پیپلزپارٹی کے2ایم پی ایزنے والد،دادااورچچاکاقتل کیاتھا، اے ٹی سی میں قانون کی پاسداری کررہی ہوں، سردارخان اوربرہان خان نے الگ الگ وکیل کیے ہیں، کسی ایک بھائی کا وکیل آتا ہے تو کبھی دوسرے کا، اداروں سے کہتی ہوں کہ دیکھیں قانون کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ام رباب نے مزید کہا کہ جاگیرداروں ،وڈیروں سے صرف عدالتیں ہی پوچھ سکتی ہیں، پولیس چھاپہ مارنے سے ان کو پہلے سے ہی آگاہ کردیتی ہے جبکہ وزیراعلی سندھ نے آرپی او سکھر اور حیدرآباد کو تعاون نہ کرنے کا کہا ہے۔ان کا وزیراعلی سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مراد علی شاہ بھی ایک سندھی ہیں دیکھیں سندھ کی بیٹی کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے، انصاف دینے میں مدد نہیں کرسکتے تو رکاوٹ بھی نہ بنیں، آپ ایسے قاتلوں کو حفاظت دے کر کیا ثابت کرناچاہتے ہیں اور سوال کیا کہ کیا آپ سندھ میں مزیدقتل کروانا چاہتے ہیں۔ام رباب نے مزید کہا کہ وزیراعلی سندھ نے ان قاتلوں کوپناہ دی ہوئی ہے، اگرعدالتوں میں ان کے خلاف کیس چلے تو میں ثبوت دوں گی ، میں انصاف کیلئے دربدرہوں لیکن انصاف نہیں مل رہا۔سندھ کی بیٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعلی سندھ نے اپنے پارٹی میں قاتل بٹھا کر رکھے ہیں ، آپ اپنوں کے ہی قاتل ہیں، کسی اور میں جرات نہیں، گواہ اور ثبوت موجود ہیں،تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں، میں تمام ثبوت عدالتوں کو دینے کو تیار ہوں۔ام رباب نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے اگلا ہدف میں ہوں، ان کیلئے کسی کوقتل کرانا مشکل نہیں۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…