ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

سال پورا اپنے کیلئے کماتے ہیں تو کیا ہوا کہ رمضان المبارک میں غریب لوگوں کو فائدہ پہنچائیں ، علاقے کے مسلم بھائی ہم پر بہت اعتماد کرتے ہیں ، پشاور کا سکھ کریانہ فروش رمضان المبارک میں اشیاءخوردونوش پر کوئی منافع نہیں لیتا بلکہ قیمت خرید ہی پر فروخت کرنے لگا ، سکھ نے دیگر منافع خوروں کیلئے عظیم مثال قائم کر دی

datetime 29  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) رمضان شروع ہوتے ہی اشیا خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی بھی عروج پر ہوتی ہے لیکن خیبر ایجنسی کے علاقہ جمرود میں نرنجن سنگھ اپنی دکان پر اشیا کی قیمتیں حکومتی نرخ سے بھی کم رکھتا ہے ۔ قومی موقر نامے میں شائع رپورٹ کے مطابق اس نے 1991 میں کریانہ کی دکان کھول تھی، آغاز میں دشواری یہ تھی کہ قبائلی عوام اس کی دکان سے

خریداری میں جھجک محسوس کرتے تھے لیکن نرنجن خود کم گو اور شرمیلا انسان ہے اور صرف اپنے گاہکوں اور علاقے کے بزرگوں سے ہی گفتگو کرتا ہے ، لیکن اسکا 25 سالہ بیٹا گرمیت سنگھ لوگوں کے ساتھ ہر وقت رابطے میں رہتا ہے ۔گرمیت سنگھ کا کہنا ہے کہ ‘‘جس علاقے میں بندہ رہتا ہے تو یہ اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ لوگوں کو فائدہ دے ۔ ہم بھی سال کے گیارہ مہینے خود کیلئے کماتے ہیں تو کیا ہوا اگر رمضان کے مہینے میں علاقے کے غریب لوگوں کو فائدہ دیں اور بغیر منافع لئے اشیا فروخت کریں۔’’نرنجن سنگھ جمعہ کے دن اپنی دکان بند رکھتا ہے ۔ جمرود بازار میں پاک افغان شاہراہ پر واقع خالصہ کریانہ سٹور میں نرنجن اور اس کے بیٹے پورے مہینے کسی بھی آئٹم میں اپنا منافع نہیں رکھتے اور یہاں تک کے دکان کا کرایہ بھی اپنی جیب سے دیتے ہیں۔گرمیت نے رمضان کے شروع ہوتے ہی دکان پر نرخ نامہ لگایا تو دکان کی سیل بڑھ گئی کیونکہ ہر شے کی قیمت خرید ہی قیمت فروخت تھی۔ بازار میں ایک ہزار کے لگ بھگ دکانیں ہیں لیکن گرمیت کہتا ہے ان کی سیل پورے علاقے میں سب سے زیادہ ہے ۔ ان کے زیادہ تر گاہک آدھا کلو اور ایک کلو خریدنے والے غریب اور کم آمدن والے لوگ ہیں۔ اس کا کہنا تھا ‘‘میری دکان میں روزانہ لاکھوں کی سیل ہوتی ہے ، رمضان میں ہم کوئی نفع نہیں کماتے ، بس اگر افطاری کے وقت غریب بندے کے منہ سے دعا نکلے اور قبول ہو جائے تو وہ ہمارے لئے کروڑوں روپے منافع سے بھی زیادہ ہے ۔’’

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…