جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

ملک میں کرونا وائرس کی صورتحال کس طرف جاتی نظر آرہی ہے ، آئندہ ماہ مریضوں کی تعداد میں کتنا بڑا اضافہ ہو سکتا ہے؟ تہلکہ خیز پیش گوئی ‎

datetime 28  اپریل‬‮  2020 |

نیویارک(این این آئی)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)کے سربراہ ٹیڈروس ادہانوم نے خبردار کیا ہے کہ اگر وائرس کے خلاف موثر مداخلت نہیں کی گئی تو پاکستان میں جولائی کے وسط تک کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ سے زائد ہوسکتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق پاکستان نیشنل اسٹریٹجک تیاری اور رسپانس پلان ورچوئل کانفرنس کے آغاز پر ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ

کووڈ 19 رسپانس پلان پاکستانی حکومت، اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں کی مشترکہ حکمت عملی پر منحصر ہے۔ٹیڈروس ادہانوم نے بتایا کہ یہ اقوام متحدہ، پاکستان کے نیشنل ایکشن پلان اور ڈبلیو ایچ او کے عالمی اسٹریٹجک تیاری اور رسپانس پلان کے ساتھ منسلک ہے۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان کے 115 اضلاع میں وائرس پھیل چکا ہے اور سندھ اور پنجاب اس سے زیادہ متاثرہ صوبوں میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے سے دبا ئوکے حامل شعبہ طب اضافی دبا برداشت کر رہا ہے اور متاثرہ افراد کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وائرس سے سماجی و اقتصادی شعبے پر پڑنے والے اثرات کو زائل کرنے کی ضرورت ہے۔ٹیڈروس ادہانوم نے کہا کہ تیزی سے پھیلتی وبا کے تناظر میں پاکستان کو پہلے سے کہیں زیادہ، لچکدار اور بروقت مالی اعانت کی ضرورت ہے تاکہ وبا کو محدود کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ منصوبے میں حکومت کی پوری حکمت عملی وسائل کی عکاسی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ میں اقوام متحدہ سمیت دیگر مقامی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے لیے چند گزارشات پیش کروں گا کہ پاکستان کے لیے وائرس ایک حقیقی خطرہ ہے اور اس خطرے کو کم کرنے کا تعلق مربوط اور ٹھوس نقطہ نظر پر منحصر ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں نہ صرف اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے بلکہ وسائل کو بڑھانے کے لیے بھی ہم آہنگی پیدا کرنی ہوگی تاکہ جہاں کہیں بھی ضرورت ہو ایسے بروقت استعمال کیا جا سکے۔آخر میں انہوں نے رمضان کریم کی آمد پر پاکستان میں مسلمانوں سے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور مبارک باد پیش کی۔سربراہ ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ اگر وائرس کے خلاف موثر مداخلت نہیں کی گئی تو پاکستان میں جولائی کے وسط تک کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ سے زائد ہوسکتی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹرجنرل ٹیڈروس ادہانوم نے ٹوئٹ میں کہا کہ موثر حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ وائرس سے پیدا ہونے والی معاشی صورتحال کے پیش نظر معیشت پر اس کے اثرات تباہ کن ہوں گے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…