اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

انتظامی رکاوٹوں کے باعث زندگی بچانے والی ادویات کی کمی، شدید بیمار افراد کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا

datetime 22  اپریل‬‮  2020 |

کراچی(آن لائن) نیشنل کنٹرول لیبارٹری کی جانب سے سرٹیفکیشن کا عمل روک دیے جانے کے باعث ملک میں زندگی بچانے والی مصنوعات مثلاً ویکسین اور انسولین کی قلت کا خدشہ ہے۔درآمد کنندگان اور حکومتی عہدیداران کے مطابق وفاقی چیف اینالسٹ جن کے پاس دستخط کا اختیار ہوتا ہے ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے یہ عہدہ ایک ماہ سے خالی ہے اور ابھی تک ان کی جگہ کسی اور کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔

اس حوالے سے ایک درآمدر کنندہ نے بتایا کہ اس صورت میں درآمد کنندگان کو خوف ہے کہ آئندہ ہفتے سے اہم مصنوعات کی قلت ہوسکتی ہے جو ’شدید بیمار افراد کے لیے تباہ کن ہوسکتا ہے‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سندھ اور خیبرپختونخوا میں ان ادویات کا اسٹاک ختم ہونا شروع ہوگیا ہے اور تاخیر سے ہزاروں مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔انہوں نے بتایا کہ ’جن مصنوعات کی فراہمی کم ہے اس میں ریبیز، ٹیٹنس، ٹائیفائڈ اور ہیپاٹائٹس کی ویکسین، ٹیٹنس یمیونو گلوبین، ریبیز امیونوگلوبین، انسولین اور مزید کئی ادویات شامل ہیں‘۔ایک آخری حربے کے طور پر پریشان تاجروں نے فوری کارروائی کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کے سربراہ سے رابطہ کیا۔اس سلسلے میں پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے ڈریپ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ وفاقی وزارت صحت نے نیشنل کنٹرول لیبارٹری سے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے لیے چیف اینالسٹ یا دستخط کے مجاز افسر کا تقرر نہیں کیا۔خط میں کہا گیا کہ ’ایک ایسے مشکل وقت میں کہ جس سے ہمارا ملک گزر رہا ہے، ہماری رکن کمپنیاں متعدد زندگی بچانے والی حیاتیاتی مصنوعات مارکیٹ میں فراہم نہیں کرسکتی کیوں کہ سرٹیفکیٹس جاری نہیں کیے جارہے‘۔ڈرگسسٹ ایسوسی ایشن نے اسے ‘نازک صورتحال‘ قرار دیا کیوںکہ زیادہ تر مصنوعات کی فراہمی پہلے ہی کم ہے، اور کہا کہ اس سے ان اہم اشیا کے منتظر مریضوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…