پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

لوگ اپنے گھروں میں روکیں رہیں ،ٹھہرہیں رہیں ،باہر ہرگز ہرگز نہ نکلیں کیونکہ سماجی فاصلہ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔پیر محمد ضیاءالحق نقشبندی

datetime 24  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تنظیم اتحاد امت پاکستان کے چیئرمین اورکوآرڈینیٹر متحدہ علماءبورڈحکومت پنجاب پیر محمد ضیاءالحق نقشبندی نے تنظیم اتحاد امت پاکستان کے شریعہ بورڈسے مشاورت کے بعدکورونا وباءسے پوری دنیا میں پیدا ہونے والی صورت حال کے موقع پر عوام کی رہنمائی میں فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ اپنے گھروں میں روکیں رہیں ،ٹھہرہیں رہیں ،باہر ہرگز ہرگز نہ نکلیں

ؐکیونکہ سماجی فاصلہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا ،عنقریب فتنے برپا ہوں گے،ان میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا،اورکھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا،اورچلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا جو ان فتنوں کو دیکھے گا وہ فتنے اس کو دیکھ لیں گے (یعنی اس کو ہلاک کر دیں گے)اورجس شخص کو ان سے پناہ کی جگہ مل جائے وہ پناہ حاصل کر لے۔(شرح صحیح مسلم جلد 7صفحہ 755 ) )فتنہ کا مطلب عذاب،وباءاورآزمائش جبکہ کورونا وائرس بھی وباءہے ،حدیث پاک کی روشنی میں جو بندہ گھر سے باہر جتنا زیادہ رہے گا وہ نقصان میں رہے گااور جو معاشرے سے جتنا زیادہ دور ہو جائے گا وہ فائدہ میں رہے گا،جو باہر نکلنے سے جتنا زیادہ احتیاط کرے گا وہ فائدہ میں رہے گا۔ گھروں میں ٹھہرے رہنے والے بیماری سے بچ جائیں گے جبکہ سونے والا سب سے زیادہ فائدہ میں رہے گا کیونکہ وہ معاشرے سے سوتے وقت سب سے زیادہ الگ ہو جاتا ہے۔ علماءکرام مساجد میں اضافی اذانیں دینے کا عمل شروع کریں،رہائشی گھروں میں زیادہ سے زیادہ اذانیں دیں ،کاروبارکرنے والے اپنے کام کے دوران اذانیں دینے کا عمل بار بار کریں ،جو لوگ دفاتر اور فیکٹریوں میں کام کرنے کے لئے جا رہے ہیں وہ ہر نماز کے موقع پر اضافی اذانیں دینا شروع کریں،تمام چینل ،ایف ایم ریڈیو اور ویب چینل پانچ وقت اذانوں کا سلسلہ شروع کریں ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ نبی کریم ؐ کے صدقے ہمارے حال پر مہربان ہو جائے، ہمارے گناہوں کو معاف کر دے اور کورونا وباءسے انسانیت بچ جائے۔پیر محمد ضیاءالحق نقشبندی نے کہا کہ رسول اللہ ؐکا فرمان ہے کہ وباءکے زمانے میں اذان دینا مستحب عمل ہے۔( فتویٰ رضویہ جلد 5صفحہ نمبر370))بہارشریعت ج 1ص (466 رسول اللہ ؐ ارشاد فرماتے ہیں کہ، جس بستی میں اذان دی جائے ،اللہ تعالیٰ اپنے عذاب سے اس دن اسے امن دیتا ہے ۔( المعجم الکبیر للطبرانی جلدنمبر1صفحہ نمبر257 حدیث نمبر746 ))اسی طرح علامہ شامی رحمة اللہ تعالیٰ فتاوی شامی میں فرماتے ہیں، شدید آفات ومشکلات اورپریشانی کے موقع پر بھی اذانیں دی جا سکتی ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…