پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، عدالت نے بڑھتی ہوئی قیمتوں پر وفاق سمیت اوگرا اور وزارت پٹرولیم کیخلاف اہم قدم اٹھا لیا

datetime 17  مارچ‬‮  2020 |

کراچی(آن لائن) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکورکی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی روز افزوں بڑھتی ہوئی قیمتوں میں اضافے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں دائر کردہ آئینی درخواست نمبر107/2020 پرعدالت نے وفاق سمیت اوگرا ور وزارت پٹرولیم کو نوٹس جاری کردیئے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے حکومت کی جانب سے

غیر قانونی طور پر 16 مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے مہنگائی کو مزید فروغ دینے کے اقدام کے خلاف، عرفان عزیز ایڈوکیٹ کے توسط سے سندھ ہائیکورٹ میں آئینی درخواست جمع کرائی، جس کی سماعت منگل کو سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس یوسف علی سعید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی ۔معزز عدالت نے متعلقہ فریقین کو 15 اپریل 2020 تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے طریقہ کار سے متعلق جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی ہے۔ دوران سماعت پاسبان کے وکیل عرفان عزیز ایڈوکیٹ نے موٗقف اختیار کیا کہ آئے دن پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کی وجہ سے مہنگائی کے مارے عوام کا جینا دوبھر ہو گیا ہے ۔عوام کو جو پیٹرول70 روپے میں ملنا چاہیئے وہ حکومت کی جانب سے بار بار قیمتیں بڑھانے کی وجہ سے ایک سو پندرہ روپے میں مل رہا ہے اور کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔ حکومت ،اوگراا ور وزارت پٹرولیم سے تفصیلات طلب کی جائیں کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر کتنے ٹیکسسز وصول کررہی ہے ؟اس موقع پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور اورپی ڈی پی بزنس فورم کے صدر وسیم الدین شیخ نے سندھ ہائی کورٹ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ پٹرولیم پروڈکٹس کی قیمتیں کم کرنے سے صنعتوں میں اضافہ ہوگا، روزگار میں اضافہ ہوگا اور حکومت کی ٹیکس آمدنی بھی بڑھے گی۔

اس لئے حکومت کا یہ مفروضہ بنیادی طور پر پُر سقم ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کے ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرتا ہے۔ الطاف شکور نے عدلیہ کے توسط سے اپیل کی کہ پیٹرول پر عائد تمام ٹیکس ہٹائے جائیںتاکہ پرائیویٹ سیکٹر کی ٹرانسپورٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو۔ظالمانہ ٹیکس نظام چوری کو جنم دینے کا باعث بنتا ہے۔ اگر ٹیکس حقائق کے مطابق عائد کئے جائیں تو اس طرح عوام کا حکومت پر اعتماد قائم ہو گا جس سے ٹیکس نیٹ ورک بڑھانے میں بھی مدد ملے گی ۔ اگر ایک روپے کی شے پر دس روپے ٹیکس لیا جائے گا تو یہ سراسر نا انصافی ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…