منگل‬‮ ، 13 اکتوبر‬‮ 2026 

سابق وزیراعظم نے کراچی کو دارالحکومت بنانے کا مطالبہ کردیا، ایم کیو ایم نے بھی حمایت کر دی

datetime 16  مارچ‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) سابق وزیراعظم میر ظفر خان جمالی نے کراچی کو پاکستان کا دارالخلافہ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں جو غلطی کی گئی تھی اس کو درست کیا جائے۔ پنجاب میں تین صوبے بنا کر باقی صوبوں کے برابر لایا جاسکتا ہے جس سے احساس محرومی کم ہوگئی۔ ایم کیو ایم نے میر ظفر جمالی کے دارلخلافہ کراچی کو بنانے کی حمایت کر دی۔

سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کی رہائش گاہ پر ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے ملاقات کی۔ ایم کیو ایم کے وفد کی قیادت ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کی جبکہ سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان، کشور ظاہرہ اور دیگر بھی موجود تھے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے رہنماں کا مشکور ہوں۔سیاسی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آل انڈیا میں 14 صوبے تھے اب 27 ہیں۔ہمارے ہاں ایسٹ اورویسٹ پاکستان تھے۔کراچی کو اسلام آباد لیکر گئے۔ یحییٰ نے چار صوبے کیے۔میں نے پنجاب کے تین صوبے کی کوشش کی۔مگر مجھے کرنے نہیں دیا گیا میں چپ رہا۔پرانے انہوں نے کہا کہ کراچی کو جانتا ہوں۔نئے کراچی کا علم میں ہے۔یہ گھر 1978 میں خریدا تھا۔سندھ میرا گھر ہے۔بلوچستان میں بھی رہتا ہوں۔میں آج بھی کہتا ہوں بلوچستان اور سندھ اکھٹے جاسکتے ہیں۔میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔طبیعت ٹھیک ہو جائے گی تو میں کتاب لکھوں گا۔میں سچ لکھوں گا۔جنریشن تبدیل ہوگئی ہے۔اولاد کو چاہیے کہ والدین کی باتیں سنے۔انہوں نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ جو پرانا سیٹ اپ تھا جو قائد اعظم نے بنایا تھا میں وہی چاہتا ہوں۔قائد اعظم جمالیوں کا وکیل ہے۔میں عرض کرسکتا ا ہوں سمجھا نہیں سکتا ہوں۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ صوبے ہر اس جگہ بننے چاہیے جہاں ضرورت ہو۔جس طرح ہمیں انہوں نے عزت دی ہے۔ان کے تجربے کی پاکستان کو ضرورت ہے۔اس شہر میں یہ ہم سے پہلے کے ہیں۔انہوں نے سچائی کی بات کی ہے۔

کراچی کے کئی مسائل پر انہوں نے سچائی سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور کراچی کو اختیار میں دیا گیا۔ سوالات کے جوابات میں میر ظفر جمالی نے کہا کہ جو بھی آتا ہے وہ کہتا ہے کہ سرائیکی صوبے کی بات کرتے ہیں۔ایک صوبے کا حل نہیں نکال سکتے ہیں تو سندھ اور بلوچستان کا کیا کریں گے۔میں نے کراچی کیپٹل کی بات کی ہے۔کراچی کے دارلخلافہ بنانے کی ضرورت ہے۔ہمیں اس کی ضرورت ہے۔میں نے کراچی صوبے کی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے وہاں بنائیں جہاں لوگوں کا فائدہ ہوگا۔مجھے کسی نے پوچھا آپ نے کوئی نشہ تو نہیں کیا۔میں نے کہا اصل نشہ کرسی ہے۔جب میں وزیر اعظم تھا تو پنجاب میں تین صوبوں کی کوشش کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…