پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

کیا ہم اجتماعی خود کشیاں کرلیں؟ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا،ہمیں سڑکوں پر آنے پر مجبور نہ کیا جائے ورنہ۔۔۔ خالد مقبول صدیقی کا دوٹو ک اعلان

datetime 14  مارچ‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہاہے کہ حالات ہمیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کررہے ہیں، کراچی کی نمائندہ جماعت ہونے کے باوجود ہمارے دفاتر بند ہیں، کارکنان گرفتار یا پھر لاپتہ ہیں،ہمارے فلاحی ادارے کو بند کردیا گیا ہے، ایوانوں اور عدالتوں میں بھی کوئی شنوائی نہیں ہورہی، کیا ہم اجتماعی خود کشیاں کرلیں، اگر ایوان بے اثر ہوگئے ہیں تو ہم سڑکوں پر آکر پوری دنیا کو ناانصافی سے آگاہ کریں گے،

ہمیں گرفتار کرنا ہے تو کرلیں، حالات کی ساری ذمے داری سندھ کی بدعنوان اور نسل پرست حکومت کی ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو ایم کیوایم پاکستان کے عارضی مرکز بہادرآبادمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ سندھ کے شہری اپنے حقوق کے لیے رو رہے ہیں، ہم 50 سال سے کوٹہ سسٹم اور دیگر پابندیوں کی زد میں ہیں، قومیت کے نام پر سندھ کو برباد کیا گیا، تعلیم اور روزگار کے دروازے بند کردیے گئے ہیں، سندھ میں سفارشی ٹولے ہیں یہاں میرٹ کا قتل ہورہا ہے، میرٹ کے نام پر نااہل اور بدعنوان لوگوں کو تعینات کیا جاتا ہے، پولیس، ڈاکٹر یا پھر ٹیچر ہو وہاں بھرتی کرکے یہاں ٹرانسفر کردیا جاتا ہے، شہر قائد میں چور اور سپاہی دونوں کا تعلق اس شہر سے نہیں ہے، لاڑکانہ سے 75 پولیس والوں کو بلالیا گیا ہے، کچھ دن کے لیے ان تبادلوں کو روک دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ میرٹ کے نام پر اداروں کو بدعنوان، بے ایمان اور نااہل لوگوں کے حوالے کردیا گیا ہے، یہاں سے پاس ہونے والے ملک بھر میں نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہوں گے، میرٹ کو جانچنے والے اداروں میں سب سے زیادہ کرپشن ہے، سندھ پبلک سروس کمیشن میں کون لوگ بیٹھے ہیں، ان کا ڈومیسائل کہاں کا ہے اور ان کی سیاسی وابستگیاں کس سے ہیں۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ وفاق کب تک خاموش رہے گا، ریاست سے سوال ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں کو انصاف کون دے گا؟، کراچی کی تباہی میں کس کا ہاتھ ہے؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…