اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان نے 11 ہزار ارب روپے کا بیرونی قرضہ واپس اتار دیا، مشکل فیصلے نہ کرتے تو ملک دیوالیہ ہو جاتا، اندر کی بات سامنے آ گئی

datetime 11  مارچ‬‮  2020 |

پشاور(این این آئی)خیبرپختونخوا کے وزیر محنت اور ثقافت شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے 11ہزار ارب روپے کا بیرونی قرضہ واپس کیا ہے۔ پی پی پی اور پی ایم ایل این نے ملکی اداروں کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کیا تھا وزیراعظم عمران خان مشکل فیصلے نہ کرتے تو ملک دیوالیہ ہو جاتا۔ آج ملک میں مہنگائی ہے لیکن یہ ایک یا دو سال کی حکومت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ 30 ہزار ارب روپے کا بیرونی قرضہ ہے جو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے لیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے لیے گئے قرضے واپس کر رہی ہیں کیونکہ مقروض ممالک کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔ اپوزیشن والے اپنے دور حکومت میں گیلپ سروے کا بہت ذکر کیا کرتے تھے آج اسی سروے کے مطابق سب سے زیادہ کام وزیر اعلیٰ محمود خان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان مشکل حالات سے لڑنا جانتا ہے انہوں نے ملکی معیشت کو مضبوط کیا جس کے معترف بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان ترقی یافتہ ملک بنے گا کیونکہ وہ واحد لیڈر ہے جس کے پاس ویژن ہے اس نے پہلے دن سے کہا تھا کہ افغانستان مسئلے کی حل کے لیے امریکہ کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہیے۔ تب پاکستانی کرپٹ سیاست دانوں نے انکو طالبان خان کہا تھا آج 20 سال بعد عمران خان کی بات سچ ثابت ہوئی۔ وہ نشتر ہال پشاور میں لیڈز کالج پشاور کے پوزیشن ہولڈر طلبا میں تقسیم اسناد کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی رہنما گل بادشاہ سمیت دیگر سماجی کارکنوں اور اساتذہ کرام نے شرکت کی۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ سابق حکمرانوں سے کرپشن کا پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ موٹر وے بنایا ہے۔ کیا 30 ہزار ارب روپے پر صرف ایک موٹر وے بنا ہماری صوبائی حکومت نے اپنے پیسوں سے سوات موٹر وے بنایا ہے۔ نواز شریف نے ملک کے ائیر پورٹ اور موٹر وے گروی رکھے تھے وزیراعظم عمران خان آج ان اداروں کو آزاد کرا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے پہلے کہا تھا کہ یہ سب چور اکٹھے ہو جائے گے لیکن چھوڑیں گے کسی کو بھی نہیں۔ آج مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی ، جمیعت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی ایک دوسرے کی کرپشن چھپانے اور دفاع میں لگے ہوئے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ فاٹا انضمام ایک مشکل مرحلہ تھا جو وزیر اعلیٰ محمود خان نے کامیابی سے پورا کیا۔ قبائلی اضلاع کی ترقی پر ہر سال 100 ارب روپے لگائے جائیں گے۔ اس سال 83 ہزار ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے

ٹینڈر ہو رہے ہیں۔ قبائل کے ساتھ کیا گیا ہر وعدہ پورا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبقاتی نظام تعلیم اور بوٹی مافیا کی وجہ سے تعلیمی معیار متاثر ہوتا ہے جس سے حقیقی معنوں میں ٹیلنٹ سامنے نہیں آتا۔ تعلیم ہماری صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ کرپشن ، پرچوں کا وقت سے پہلے آؤٹ ہونا اور بوٹی مافیا کے خاتمے کے لیے امتحانات کے نظام میں اصلاحات اور تبدیلی لانی چاہیے۔ اساتذہ کرام طلباء کی ذہن سازی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ ہمارے ملک کا روشن مستقبل ان ہی ہونہار طالب علموں کے ہاتھوں میں ہوگا۔



کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…