پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے 6 کنٹرولر مشتبہ قرار، پی آئی اے ملازمین نے انتہائی اہم اور ضروری کام سے انکار کر دیا

datetime 11  مارچ‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) سول ایوی ایشن اتھارٹی کے 6 ایئر ٹریفک کنٹرولرز کو کرونا وائرس کے سلسلے میں مشتبہ قرار دے دیا گیا، دوسری طرف پی آئی اے ملازمین نے بائیو میٹرک حاضری سے انکار کر دیا ہے۔ ترجمان سی اے اے کے مطابق 6 ایئر ٹریفک کنٹرولرز کو مشتبہ قرار دیا گیا ہے، ایک ایئر ٹریفک کنٹرولر کے قریبی عزیز کرونا وائرس سے متاثر تھے، ملازم کے ماموں کی ٹریول ہسٹری بھی ایران سے بتائی جاتی ہے۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ ایئر ٹریفک کنٹرولر کی والدہ اپنے بھائی کے ہمراہ ایران گئی تھیں، اے ٹی سی اہل کار اپنی والدہ سے ملنے کے بعد ڈیوٹی پر گیا تھا، سول ایوی ایشن اتھارٹی نے احتیاطی تدابیر کے طور پر رابطے میں آنے والے شفٹ میں موجود تمام اے ٹی سیز کو قرنطینہ میں بھیج دیا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ایس او پی کے مطابق احتیاطی تدابیر کے طو ر پر پوری شفٹ کو ڈیوٹی پر 14 دن تک ڈیوٹی سے مستشنی رکھا جائے گا۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ سی اے اے نے ریڈار کنٹرول اے سی سی ایریا کو خالی کرا لیا ہے، اور ریڈار کنٹرول سمیت دیگر دفاتر میں خصوصی اسپرے کیا جا رہا ہے۔ ایئر پورٹ کے مختلف ایریاز، کارگو، ایپرن اور رن وے ایریا میں بھی اسپرے شروع کر دیا گیا ہے، تمام دفاتروں میں حفاظتی اقدامات کے پیش نظر ماسک اور سینیٹائزر کا استعمال بھی کیا جانے لگا ہے۔ادھر کرونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر پی آئی اے ملازمین نے بائیو میٹرک حاضری سے انکار کر دیا ہے، پیپلز یونٹی آف پی آئی اے نے اس سلسلے میں انتظامیہ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ کرونا وائرس دنیا بھر میں پھیل رہا ہے، ایئرلائن ملازمیں خطرے میں ہیں، کرونا وائرس متعدی بیماری ہے، بائیو میٹرک سے وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے۔خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پی آئی اے انتظامیہ ملازمین کو کم از کم ایک ماہ بائیو میٹرک حاضری سے استثنی دے، ملازمین میں بائیو میٹرک حاضری سے خوف بڑھ رہا ہے، مشین کی وجہ سے وائرس ایک سے دوسرے شخص کو منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…