جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

’’میری محبت میری مرضی،میرے پاس تیزاب ہے‘‘

datetime 8  مارچ‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف کالم نگار یاسر پیرزادہ اپنے کالم ’’میرے پاس تیزاب ہے‘‘ میں لکتے ہیں کہ ۔۔۔۔میرا نام جانو قتال پوری ہے، میں عورتوں کا بہت بڑا فین ہوں یعنی اُن کے حقوق کا، لیکن جب سے کچھ عورتوں نے ’میرا جسم میری مرضی‘ جیسا لغو اور بیہودہ نعرہ ایجاد کیا ہے میں سخت غصے میں ہوں۔ نجانے وہ کون لوگ ہیں جنہیں یہ فحش نعرہ پسند ہے، مجھے تو اِس نعرے کی کوئی کل سیدھی نظر نہیں آتی،

بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ میرے جسم پر میر ی مرضی چلے گی، یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ میری گاڑی، میری مرضی، جیسے چاہوں چلاؤں اور جسے چاہوں دے ماروں!میں تو نہیں مانتا ایسے فضول نعرے کو، میرے خیال میں عورت کے جسم پر اُس کی مرضی چل ہی نہیں سکتی کیونکہ اگر ایسا ہو تو عورت کبھی اپنے آپ کو بوڑھی نہ ہونے دے۔اچھو کباڑیے کا بھی یہی خیال ہے، کل اُس سے جب عورتوں کے حقوق پر بات ہوئی تو وہ چھاتی پھلا کر کہنے لگا کہ میری طرح وہ بھی عورتوں کی آزادی کا سب سے بڑا چیمپئن ہے، پھر اُس نے مجھے اپنی جوانی کا ایک قصہ سنایا کہ کیسے اسے اپنے محلے کی لڑکی سے عشق ہو گیا تھا، لڑکی چونکہ بہت حسین تھی اِس لیے اچھو کو لفٹ نہیں کرواتی تھی، اچھو نے اُس کی بہت منت سماجت کی، ترلے کیے، شادی کے پیغامات بھیجے مگر وہ نہیں مانی، کہتی تھی میری مرضی، جس سے چاہوں گی شادی کروں گی۔اچھو سے یہ بات برداشت نہیں ہوئی، بھلا اُس کی غیرت کیسے یہ گوارا کرتی کہ اُس کی محبت کسی اور کی ہو جائے، کرنا خدا کا یہ ہوا کہ اُس لڑکی کی بات پکی ہو گئی، ایک دن وہ گھر سے خریداری کی غرض سے نکلی تو اچھو نے اُس کا راستہ روک لیا اور اپنی سچی محبت کا واسطہ دیا کہ شادی سے انکار کرکے اُس کے ساتھ بھاگ جائے مگر وہ نہ مانی، اچھو کو غصہ آگیا، اُس کے ہاتھ میں تیزاب کی بوتل تھی، اُس نے بوتل کا ڈھکن کھولا اور لڑکی پر تیزاب الٹ دیا، اُس کا سارا چہرہ جھلس گیا۔اپنی محبت پر تیزاب پھینکنے کا اچھو کو آج بھی افسوس ہے مگر پچھتاوا نہیں کیونکہ اس کے بعد لڑکی کی شادی ختم ہو گئی اور وہ اب تک کنواری ہے، اچھو کہتا ہے کہ اگر

وہ میری نہیں بن سکی تو کسی اور کی بھی نہیں بنی، میری محبت میری مرضی، اچھو آج کل ڈرامہ لکھ رہا ہے جس کا نام ہے ’’میرے پاس تیزاب ہے‘‘۔اچھو کباڑیے کے علاوہ میرا دوست نسیم گینڈا بھی حقوقِ نسواں کا حامی ہے، اس سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگا کہ پورے ملک میں فیمنزم کا مجھ سے بڑا حمایتی کوئی نہیں، میں تو عورتوں کو ہر قسم کی آزادی دینے کاقائل ہوں بشرطیکہ وہ اپنی حیا برقرار رکھیں اور بے وفائی نہ کریں، رہی بات اِس نعرے کی تو یہ نہایت ہی فحش اور بیہودہ نعرہ ہے جس کا مطلب سوائے اِس کے اور کچھ نہیں کہ جس کے ساتھ مرضی ہو گی اُسی کے ساتھ ملوں گی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…