منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

پشاور سمیت صوبہ بھر میں افغان باشندوں اور تاجروں کی کروڑوں کی جائیدادیں، ایف بی آر نے اہم قدم اٹھا لیا

datetime 4  مارچ‬‮  2020 |

پشاور(آن لائن )پشاور سمیت صوبے بھر میں افغان باشندوں اورتاجروں کے کروڑوں روپے کے جائیدادوںکا ڈیٹا فراہم کرنے کے حوالے سے ایف بی آرنے صوبائی حکومت سے رابطہ کرلیا ہے اور صوبائی حکومت سے تفصیلات طلب کر لی ہیں

تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے تاحال ریکارڈ ایف بی آرکو فراہم نہیںکیا ہے ۔ایف بی آر خیبر پختونخوا کی جانب سے گزشتہ سال صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو افغان باشندوں سمیت بے نامی جائیدادوں کا ڈیٹا اور ریکارڈ جمع کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاہم ڈپٹی کمشنر ایف بی آر ہیڈکوارٹر محسن احسان کے مطابق تاحال صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی ڈیٹا فراہم نہیں کیا گیا۔ ڈیٹا کی دستیابی کے بعد ہی اس پر مزید کارروائی ممکن ہے۔پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں نہ صرف افغان باشندے بلکہ دیگر افراد بھی بڑے بڑے پلازوں اور جائیدادوں کے مالک ہیں تاہم ان سے متعلق معلومات بالکل زیرو ہیں، پشاور کے شہریوں نے بھی بے نامی جائیدادوں کے حوالے سے کارروائی نہ ہونے پر صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔وزارت داخلہ کی ہدایت پر املاک کی خرید و فروخت کے حوالے سے سفارشات بھی مرتب کی جائیں گی جبکہ غیر ملکیوں کو جائیداد کے مالکان حقوق دینے کے بجائے مخصوص مدت کیلئے لیز پر دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…