منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

اندھیر نگری چوپٹ راج، سستی، تازہ سبزیوں اور فروٹ فروخت کرنے پر پابندی،انتظامیہ گراں فروشوں سے مل گئی، دھماکہ خیز انکشاف

datetime 21  فروری‬‮  2020 |

آٹھ مقام(آن لائن) اندھیر نگری چوپٹ راج، ضلعی انتظامیہ کی گراں فروشوں سے ملی بھگت، ریڑھیوں اور گاڑیوں پر سستی تازہ سبزیوں اورفروٹ کی فروخت پر پابندی لگا دی، عوام نے اس پر اپنے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔وادی نیلم کے ضلعی ہیڈکواٹر آٹھمقام کنڈل شاہی،

جورا، شاردہ، کیل میں ریڑھیوں پر اور گاڑیوں پر پنڈی اور مانسہرہ سے تازہ اور سستی سبزیاں فروٹ عوام کو فروخت کرنے پر دفعہ 144 لگا دیا ہے۔ ان ریڑھیوں اور گاڑیوں پر ٹماٹر 42 روپے کلو اور فروٹ میں کینو 50 روپے درجن جبکہ کیلا 60 روپے درجن فروخت کیا جا رہا تھا لیکن گراں فروشوں کی ملی بھگت سے ضلعی انتظامیہ آٹھمقام نے سستی اور تازہ سبزیاں فروٹ فروخت کرنے والی گاڑیوں اور ریڑھیوں پر سبزیوں اور فروٹ کی فروخت پر پابندی لگاتے ہوئے دفعہ 144 لگا دیا ہے۔ بازاروں میں دکانوں اور منڈی میں سبزیاں اور فروٹ باسی ہونے کے باوجود دوگنا نرخوں پر فروخت کئے جا رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق ایڈمنسٹریٹر کا چچا جس نے سبزی منڈی کھول رکھی ہے چچا کو فائدہ دینے کے لئے ایڈمنسٹریٹر کی ایما ء پر تازہ اور سستی سبزیوں اور فروٹ کی فروخت پر پابندی لگائی گئی ہے۔ عوامی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے چیف سیکرٹری آزاد کشمیر سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…