پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

وزارت صحت اتنی نا اہل ہے کہ پتہ نہیں چلا سکی کراچی میں لوگ گیس سے کیسے مرے؟ یوں کیا گیا تو ملک تباہ ہو جائیگا، اسلام آباد ہائی کورٹ شدید برہم

datetime 19  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ وزارت صحت اتنی نااہل ہے پتہ نہیں لگاسکی کراچی میں گیس سے لوگ کیسے مرے۔ منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی عمارت سیل کرنے کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی تو اسلام آباد انتظامیہ نے جواب جمع کرایا کہ عمارت ہم نے نہیں بلکہ وزارت صحت نے سیل کی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے وزارت صحت اور وفاقی حکومت پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان اس طرح کام کرنے گی تو لوگ پتھر ماریں گے ان کو گالیاں دیں گے، اگر حکومت سمجھتی ہے کہ اس ادارے کو نہیں ہونا چاہیے تو پارلیمنٹ میں معاملہ پیش کرے، انہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، آگ سے کھیل رہے ہیں، ایک وزارت میں بیٹھے سیکرٹری سمجھ لیتے ہیں عمارت کو تالا لگا دینے سے معاملہ حل ہو جائے گا، کل وزارت صحت کو ایسے تالا لگا کر باہر کھڑا کر دیں تو دنیا میں کیا تاثر جائے گا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وزارت صحت اتنی نااہل ہے کہ کراچی میں گیس سے لوگ کیسے مرے اندازہ نہیں لگا سکی، ابھی اس وزارت نے اس نااہلی کے ساتھ کرونا وائرس سے بھی لڑنا ہے، ہر ادارے کے ساتھ یوں کیا گیا تو ملک تباہ ہو جائیگا، کیا وفاقی حکومت کو سمجھانے والا کوئی بھی نہیں ہے؟، ایک ادارے کے لوگ حکومت کو پسند نہیں آئے، انہیں گھر بھیج دیا گیا، کل حکومت کو وکیل اور جج پسند نہیں آئیں گے، کیا ہمارے لئے بھی آرڈیننس جاری کر دیں گے؟ ایسے الفاظ پٹواری بھی نہیں لکھتا جو وزارت صحت نے لکھ کر بھیجے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے کہ اداروں کو تالے لگا کر لاکھوں شکایات پی ایم پورٹل پر حل کرنے کے دعوے ہوتے ہیں، پی ایم ڈی سی سے متعلق آرڈیننس عدالتی فیصلے کے بعد ختم ہو چکا۔عدالت نے سیکرٹری صحت سمیت تمام فریقین کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 مارچ کو جواب طلب کرلیا

جبکہ عمارت کو تالا لگانے والے افسران کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا۔واضح رہے کہ حکومت نے پاکستان میڈیکل کمیشن صدارتی آرڈیننس 2019 جاری کرکے طبی شعبے کے نگراں ادارے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو تحلیل کر کے اس کی جگہ نیا ادارہ پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) بنادیا تھا۔اس آرڈیننس کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے سماعت کے بعد پی ایم ڈی سی کو تحلیل کرنے کا صدارتی آرڈیننس اور پی ایم سی کا قیام کالعدم قرار دے کر پی ایم ڈی سی ملازمین کو بحال کردیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…