منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

6 ماہ میں حکومت کو قرضوں پر سود کی مد میں کتنی بڑی رقم دینا پڑ گئی،جان کر آپ حیران رہ جائیں گے، انتہائی دھماکہ خیز انکشافات

datetime 16  فروری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) حکومت کی جانب سے بجٹ کو مستحکم رکھنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم ان کوششیں اس وقت ماند پڑجاتی ہیں جب سود کی ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔وزارت مالیات کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلی ششماہی کے دوران حکومت نے ٹیکس محصولات میں سے سود کی ادائیگوں پر 57 فیصد خرچ کیا ہے یعنی اس میں 46 فیصد اضافہ ہوا ہے یعنی ابتدائی 6ماہ میں حکومت نے سود کی ادائیگیوں کی مد میں ایک کھرب 30 ارب روپے ادا کیے ہیں۔

جولائی سے دسمبر کے دوران بجٹ خسارہ میں نمایاں کمی نظر آتی ہے جس میں صوبوں کی جانب 323 ارب روپے کی بچت اور مرکزی بینک کی جانب سے 426 اروب 50 کروڑ روپے منافع تھا۔ اس عرصے کے دوران ٹیکس خسارہ یعنی محصولات کی شکل میں آمدنی اور اور اخراجات میں فرق 2 اعشاریہ 3 فیصد رہا یعنی 994 ارب 70 کروڑ روپے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران یہ خسارہ ایک کھرب روپے یا مجموعی قومی پیداوار کا 2 اعشاریہ 7 فیصد تھا۔وفاقی مالیاتی آپریشنز کی سمری کے مطابق چھ ماہ کے دوران سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کو پورا کرنے کے بعد وفاقی کی آمدنی منفی 167 ارب روپے رہی۔ وفاق نے ایک کھرب 30 ارب روپے سود کی مد میں جبکہ 529 ارب 50 کروڑ روپے دفاع کی مد میں خرچ کیے اس طرح کل اخراجات ایک کھرب 81 ارب روپے رپے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس میں سود کی ادائیگیوں کی مد میں زیادہ رقم ادا کی گئی جبکہ دفاع کی مد میں اخراجات بجٹ کے تناسب سے ہی کیے گئے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کی مد میں پہلی ششماہی ایک کھرب 81 ارب روپے کے اخراجات، اس مدت کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے جمع کردہ ٹیکسوں کے حجم کا 86 اعشاریہ 5 فیصد کے مساوی رہے۔ اس ششماہی میں ایف بی آر کا حاصل کردہ ریونیو 2کھرب 10 ارب روپے تھا۔جولائی تا دسمبر حکومت نے اندرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں ایک کھرب 10 ارب روپے خرچ کیے جو گزشتہ مالی سال کی اسی شش ماہی کے مقابلے میں 49 فیصد یا 368 ارب روپے زیادہ ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…