منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

پولیس سرکار کے سیاہ کارنامے،مجرم کے بجائے معصوم کو سزائے موت بھی سنا دی گئی، جیل میں فرضی ناموں سے سزا کاٹنے والے قیدی، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 15  فروری‬‮  2020 |

سکھر(آن لائن) سکھر کی سینٹرل جیل میں فرضی ناموں سے سزا کاٹنے والے قیدیوں کے انکشاف،فرضی نام ظاہر کر کے عدالتوں میں پولیس نے جھوٹے کیس درج کر کے سزا دلائی ہے، شفاف انکوائری کرائے جائے، قیدیوں کے ورثاء کا انصاف کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان سمیت دیگر بالا حکام سے ا پیل، تفصیلات کے مطابق سینٹرل جیل میں فرضی ناموں سے گذشتہ کئی سالوں سے سزا کاٹنے والے قیدیوں

شاہ جہاں جتوئی فرضی نام (صغیر احمدسومرو) سکنہ شکارپور کے ورثاء ورثاء اعظم خان، جہانگیر جتوئی نے احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارا بھائی شاہ جہاں جتوئی چند سال قبل عمر کوٹ سے واپس گھر آرہا تھا کہ راستے میں پولیس نے دوران چیکنگ روکا اور اسے بااثر افراد کے کہنے پر گرفتار کر کے صغیر احمد سومرو ولد علی احمد سومرو سکنہ صالح بروہی لاڑکانہ ظاہر کر کے اس کے خلاف قتل کے جھوٹے کیس درج کر کے جیل بھیج دیا ہے جہاں وہ بے گنا ہ سزا ئے موت کی سزا بھگت رہا ہے دوسری جانب کراچی کے علاقے ملیر کے مکینوں علی بخش شیخ اور اربیلو بگٹی نے بھی ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ کراچی پولیس نے بااثر سرکاری افسرکے کہنے پر پلاٹ کے تنازعے پر ہمارے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ہمارے عزیز وں کریم بخش شیخ ولد شفیع محمد شیخ کو عابد شیخ کے نام سے گرفتار ی دیکھا کر جھوٹے کیس درج کرائے اور موت کی سزا دلائی ہے جبکہ صفل بگٹی کو بھی امتیاز مگسی کے فرضی نام سے گرفتار کر کے اسکو بھی موت کی سزا سنائی گئی ہیں، مظاہرین نے بتایا کہ ہمارے عزیز کئی سالوں سے بے گناہ فرضی ناموں سے سندھ کی مختلف جیلوں میں سزا بھگت رہے ہیں،قیدیوں کے ورثاء نے چیف جسٹس آف پاکستان، صدر مملکت پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، وفاقی و صوبائی وزیر داخلہ سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت لیگل ایڈ سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ سینٹرل جیل سکھر میں فرضی ناموں سے سزا کاٹنے والے ہمارے عزیزوں کے کیسز کی صاف و شفاف انکوائری کرائے جائے اور انہیں رہا کرتے ہوئے ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…